لندن : پرنس جارج برطانوی تخت کے وارثوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں اور اپنے والد پرنس ولیم کے بعد مستقبل کے بادشاہ بنیں گے۔
برطانوی ولی عہد پرنس جارج کو ان کے والدین (پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن) مستقبل کے بادشاہ کے طور پر ان کی باقاعدہ لیکن بتدریج تربیت کررہے ہیں جس کا مقصد شاہی ذمہ داریوں سے آگاہی کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پُرسکون اور عام زندگی فراہم کرنا ہے۔
22جولائی 2013 کو پیدا ہونے والے برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ اور مستقبل کے بادشاہ پرنس جارج کم عمری میں ہی اپنی شاہی ذمہ داریوں اور مستقبل کے کردار سے بخوبی آگاہ ہونے لگے ہیں۔
شاہی ذرائع کے مطابق 11 سالہ پرنس جارج اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ ایک دن برطانوی تاج ان کے سر سجے گا اور انہیں بادشاہت کی بھاری ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی۔
پرنس ولیم اور شہزادی کیٹ کے بڑے صاحبزادے، جو 22 جولائی کو اپنی 12 ویں سالگرہ منائیں گے، اب پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ برطانوی تخت کے دوسرے وارث ہونے کے ناطے ان پر مستقبل میں کون سی ذمہ داریاں، توقعات اور قربانیاں عائد ہوں گی۔
شاہی محل کے عملے میں بھی پرنس جارج کو مستقبل کے بادشاہ کے طور پر خاص احترام اور محبت حاصل ہے۔
ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شاہی جانشینی کی حقیقت ان کے لیے مزید واضح ہوئی، جس کے بعد انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ شاہی تاج نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور ایک دن یہ ذمہ داریاں انہی کے کندھوں پر آئیں گی۔
ذرائع کے مطابق پرنس ولیم اور شہزادی کیٹ اپنے بیٹے کو آہستہ آہستہ شاہی فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ وہ ذہنی طور پر مستقبل کے لیے تیار ہوسکے۔
شاہی خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران خاندان میں فرض، عوامی خدمت اور شاہی نظام کے تسلسل سے متعلق اہم گفتگو بھی ہوئی۔
اس بات چیت سے پرنس جارج کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ بادشاہت صرف عوامی تقریبات یا شاہی بالکونی سے ہاتھ ہلانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ مسلسل عوامی نگرانی، ذاتی خواہشات پر قومی مفاد کو ترجیح دینا اور بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا بھی شامل ہوتا ہے۔
تاہم شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی اوّلین ترجیح اب بھی یہی ہے کہ پرنس جارج ایک خوشگوار اور ممکنہ حد تک معمول کی زندگی گزار سکیں۔
شاہی جوڑا نہیں چاہتا کہ کم عمری میں ہی بادشاہت کا دباؤ ہر وقت ان کے ذہن پر حاوی رہے، لیکن وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ مستقبل میں انہیں برطانوی تاج و تخت کے لیے مکمل طور پر تیار ہونا ہوگا۔




