لندن (24 جنوری 2026): افغانستان میں خدمات انجام دینے والے شہزادہ ہیری بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
شہزادہ ہیری نے کہا کہ اتحادی ممالک افغانستان میں مشترکہ سلامتی کے حصول کے لیے امریکا کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے، میں نے بھی وہاں خدمات انجام دیں، میں نے وہاں عمر بھر کے دوست بنائے اور میں نے وہاں دوست کھوئے۔ صرف برطانیہ ہی کے 457 فوجی اہلکار مارے گئے۔
انھوں نے کہا ’’ہزاروں زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں، ماں باپ نے اپنے بیٹے اور بیٹیاں دفنائیں، بچے والد یا والدہ کے سائے سے محروم ہو گئے، خاندان ان نقصانات کا بوجھ آج تک اٹھا رہے ہیں۔ ان قربانیوں کا ذکر سچائی اور احترام کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔‘‘
ڈیوک آف سسیکس نے 2006 میں اپنی تربیت مکمل کی تھی اور برطانوی فوج کے ہاؤس ہولڈ کیولری رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ مقرر ہوئے تھے، 2007 میں انھوں نے رائل ایئر فورس کے لیے مشترکہ ٹرمینل اٹیک کنٹرولر کی تربیت حاصل کی، اور بعد ازاں اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ بنے۔ 2008 کے آغاز میں انھیں خفیہ طور پر 10 ہفتوں کے لیے افغانستان تعینات کیا گیا، تاہم میڈیا میں ان کے مقام سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد انھیں واپس بلا لیا گیا۔
ٹرمپ کا نیٹو فوجیوں سے متعلق بیان تضحیک آمیز ہے، برطانوی وزیر اعظم
ستمبر 2012 میں انھیں دوسری مرتبہ افغانستان بھیجا گیا، جہاں انھوں نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے معاون پائلٹ اور گنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی کتاب ’’اسپیئر‘‘ میں شہزادہ ہیری نے لکھا ہے کہ افغانستان میں قیام کے دوران انھوں نے 25 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ مجموعی طور پر انھوں نے فوج میں 10 برس خدمات انجام دیں اور وہ اب بھی سابق فوجیوں کی فلاحی تنظیموں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ہیری نے اپنے بیان میں نہ صدر ٹرمپ کا نام لیا ہے، نہ ہی اُن بیانات کا براہِ راست حوالہ دیا، جن کی وجہ سے یہ تنازع کھڑا ہوا، تاہم ان کے بیان کو ایک ردِعمل کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ اس پر کیا ردِعمل دیتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن اپنے دو بچوں کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




