The news is by your side.

برطانوی شہزادے ہیری کی کتاب نے آتے ہی دھوم مچادی

برطانوی شاہی خاندان سے قطع تعلق کرنے والے شہزادہ ہیری کی کتاب نے مارکیٹ میں آتے ہی دھوم مچادی، دکانیں آدھی رات کو ہی کھل گئیں، خریداروں کا رش لگ گیا۔

دنیا کی 15 مختلف زبانوں شائع ہونے والی کتاب میں موجود افغانستان سے متعلق حصّوں پر برطانیہ کے بعض حلقے اور افغانستان کے طالبان حکام کی جانب سے بھی شدید ردّعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پرنس ہیری کی کتاب "اسپیئر” کی بازار میں آنے سے پہلے ہی اس کے چرچے زبان زدعام تھے۔

Prince Harry's memoir Spare has finally gone on sale at midnight in the UK - five days after it was first leaked to the world in Spain

گزشتہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تشہیری مہم کے بعد بالآخر منگل کو شہزادہ ہیری کی سوانح حیات ’اسپیئر‘ان کے آبائی ملک برطانیہ میں فروخت کے لیے پہنچ گئی ہے، جس سے شاہی خاندان کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پرنس ہیری کی کتاب کی طلب پوری کرنے کے لئے انگلینڈ کے دارالحکومت لندن کے بُک اسٹال نصف شب ہی کھُل گئے۔

He holds three copies of the memoir during the special midnight opening event for the release of the memoir

دارالحکومت لندن کے وکٹوریا اسٹیشن کے بُک اسٹال پر کتاب کو جلد از جلد حاصل کرنے کے خواہش مندوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ انگریزی کے علاوہ مزید 15 زبانوں میں شائع ہونے والی یہ کتاب دنیا بھر میں ہاتھوں ہاتھ بِک رہی ہے۔

انگلینڈ کے معروف بُک اسٹور ’واٹر اسٹون‘نے کہا ہے کہ پرنس ہیری کی کتاب حالیہ 10 سال میں بھاری ترین پیشگی طلبی پر حاصل کرنے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔

Prince Harry memoir, 'Spare,' released with royal family revelations

واضح رہے کہ 10 جنوری کو اشاعت سے قبل اسپین میں غلطی سے کچھ حصّوں کی اشاعت کے بعد کتاب ذرائع ابلاغ کے لئے موضوعِ بحث بن گئی تھی، سب سے پہلے برطانوی روزنامے ’دی گارڈین‘ نے کتاب کے بعض حصے رائے عامہ کے لئے شائع کئے تھے۔

مذکورہ کتاب میں پرنس ہیری نے اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کو ان پر جسمانی تشدد کرنے کا قصور وار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی وفات کی خبر انہوں نے بی بی سی میں پڑھی۔

prince-harry-funeral

انہوں نے کہا ہے کہ اپنی اہلیہ میگھن مارکل سے ملنے سے پہلے وہ متعصب تھے، کتاب کے ایک باب میں پرنس ہیری نے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں 25 افراد کو قتل کیا اور انہیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

خاص طور پر کتاب کے افغانستان سے متعلقہ حصّوں پر خود برطانیہ کے بعض حلقوں کی طرف سے بھی اور افغانستان کے طالبان حکام کی طرف سے بھی سخت ردّعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شہزاد ہیری کی زندگی پر لکھی گئی کتاب کی اسپین میں فروخت کا آغاز غلطی سے مقررہ وقت سے پہلے ہوگیا، جس کے بعد کتاب کے کچھ اقتباسات آن لائن لیک بھی ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں