چترال (21 مئی 2026): اپر چترال کے دورافتادہ علاقے غورو اور پرکوسپ کے نوجوانوں نے اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس شاہ رحیم آغا خان کے پرواک لشٹ آمد کی خوشی میں اپنی مدد آپ کے تحت مستوج پل سے پرکوسپ پری ماڑی تک رابطہ سڑک کی مرمت اور کشادگی کا کام مکمل کر کے عوامی خدمت اور اتحاد کی ایک روشن مثال قائم کر دی ہے۔
مقامی نوجوانوں نے دن رات مسلسل محنت کر کے سڑک کو اس قدر کشادہ بنا دیا کہ جہاں پہلے بہ مشکل ایک گاڑی گزرتی تھی، اب دو گاڑیاں آسانی سے ایک دوسرے کو کراس کر سکتی ہیں۔ سڑک کی خراب حالت کے باعث ماضی میں علاقے کے عوام خصوصاً مریضوں، خواتین، بزرگوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا، تاہم نوجوانوں کی اجتماعی کاوشوں سے یہ دیرینہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسماعیلی برادری کے پچاسویں امام پرنس شاہ رحیم آغا خان 20 سے 26 مئی تک پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، اور وہ پاکستان آ چکے ہیں، اس دوران وہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں، لوئر چترال کے گرم چشمہ اور اپر چترال کے پرواک لشٹ میں خواتین و حضرات سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس متوقع دورے کے سلسلے میں اپر چترال کے بیش تر علاقوں میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت مین شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی صفائی، مرمت اور تزئین و آرائش میں مصروف ہیں، جب کہ مختلف مقامات پر استقبالیہ تیاریوں کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
غورو اور پرکوسپ کے نوجوان رہنماؤں سید محراب حسین شاہ اور طارق کی سربراہی میں ہزاروں افراد کی آمد و رفت کے لیے انتہائی اہم اس رابطہ سڑک کی تعمیر و مرمت کا بیڑا اٹھایا گیا۔ اس مقصد کے لیے علاقے کے مخیر حضرات سے چندہ جمع کیا گیا، مشینری کرائے پر حاصل کی گئی جب کہ نوجوانوں نے خود جسمانی مشقت کر کے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اہلِ علاقہ نے سڑک کی کشادگی کے لیے اپنی زرعی اراضی بھی قربان کی، جسے مقامی افراد نے بے مثال ایثار اور اجتماعی شعور قرار دیا۔ مکینوں کے مطابق یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عوام متحد ہوں تو محدود وسائل کے باوجود بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
مقامی افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے باعث عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت یہ اہم کام انجام دینا پڑا۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی یہ خدمت متعلقہ حکام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
View this post on Instagram
معروف سماجی شخصیت سید حسین علی شاہ نے غورو اور پرکوسپ کے نوجوانوں کی کاوشوں کو شان دار عوامی خدمت قرار دیتے ہوئے انھیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ علاقے کے بزرگوں نے بھی نوجوانوں کے جذبۂ خدمت، اتفاق و اتحاد اور شب و روز محنت کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ نوجوان آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ علاقائی ترقی، فلاحی سرگرمیوں اور عوامی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہیں۔
واضح رہے کہ اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان پاکستان پہنچ چکے ہیں، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری بھی صدر مملکت کے ہمراہ موجود تھیں۔ استقبالیہ تقریب میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگراعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ پاکستانی ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کیے۔
صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایئرپورٹ پہنچے، جہاں انھوں نے پرنس رحیم آغا خان کا خیر مقدم کیا۔ جس کے بعد ایوانِ صدر میں پرنس رحیم آغا خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جہاں قومی ترانہ بجایا گیا اورایک بار پھر بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کر کے خوش آمدید کہا۔








