The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے بدنصیب قیدی کا رہائی سے دو ہفتے قبل انتقال

مانچسٹر: برطانیہ میں ٹانگوں سے محروم بدنصیب قیدی نے جیل رہائی سے دو ہفتے قبل زندگی سے رہائی پالی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق  برطانیہ کے شہر ووسٹر شائر کی جیل میں ٹانگوں سے محروم51 سالہ قیدی کا رہائی سے دو ہفتے قبل انتقال ہوگیا، جیل میں طبیعت خراب ہونے پر اُسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ٹانگوں سے محروم قیدی بارہ روز تک اسپتال میں ہتھکڑی لگا کر رکھا گیا اور اسی میں وہ دم توڑ گیا۔

جیل حکام کے مطابق 51 سالہ شخص ٹیموتھی سلیٹر کو سانس میں لینے میں دشواری اور جسم کے نچلے حصے میں حرکت محسوس نہ ہونے پر جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس حکام نے اسپتال منتقلی کے وقت بھی قیدی کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی نہیں کھولی، ڈاکٹرز نے اُس کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے اُسے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا تو تب بھی افسران نے ہتھکڑی نہیں کھولی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ قیدی ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے بھی جب اسپتال کے بیڈ پر تھا تو تب بھی اسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی، آخری بار جب اُسے اسپتال لے منتقل کیا گیا تو وہ 12 روز تک ہتھکڑی کے ساتھ زیر علاج رہا اور اسی حالت میں دنیا سے گزر گیا۔

قیدی کی موت کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اُس کے اہل خانہ نے اُمید ظاہر کی ہے کہ اُسے اب بطور قیدی نہیں دیکھا جائے گا۔ جیلوں میں صحت کی خدمات فراہم کرنے والے افسر نصرال اسمعیل کا کہنا تھا کہ یہ جیل انتظامیہ کی ایک منظم ناکامی ہے کیونکہ انہوں نے قیدی کے علاج کے حوالے سے انتظامات نہیں کیے۔

اُن کا کہنا تھاکہ ملزم ٹانگوں سے محروم تھا تو بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا، انتہائی کمزور شخص کو علاج کے دوران بھی ہتھکڑی لگا کر رکھنا ناقابلِ برداشت عمل ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں