اسلام آباد (29 ستمبر 2025): وفاقی دارالحکومت میں عدالت نے پرائیویٹ اسکولز سے متعلق یہ رپورٹ طلب کی ہے کہ انھوں نے قانون کے مطابق کتنے حق دار بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی ہے؟
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 10 فی صد حق دار بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں مفت تعلیم کے قانون پر عمل درآمد کیس میں ہائیکورٹ نے اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے کہ نجی اسکولوں نے اب تک کتنے حق دار بچوں کو فری ایجوکیشن فراہم کی؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے شہری محمد بشارت کی درخواست پر سماعت کا ایک صفحے پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ پرائیویٹ اسکولز کی ریگولیٹری باڈی پیرا رپورٹ جمع کرائے کہ نجی اسکولوں نے کتنے حق دار بچوں کو مفت تعلیم دی ہے۔
واضح رہے کہ اگست کے مہینے میں محکمہ ایجوکیشن پنجاب نے پرائیویٹ اسکول آرڈینینس 2014 دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا تھا، وزرات تعلیم نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ پرائیویٹ اسکولوں سے فری بچوں کی لسٹیں اور داخلوں کی تفصیلات طلب کی جائیں گی۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے تحت پرائیویٹ اسکولوں کو 10 فی صد بچے مفت پڑھانے کے لیے پابند کیا جائے گا۔


