The news is by your side.

پرینکا گاندھی ’’مودی‘‘ پر برس پڑیں

بھارتی اپوزیشن رہنما پریانکا گاندھی نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے مجرموں کی رہائی کے معاملے پر وزیراعظم مودی کو کھری کھری سنا دیں۔

بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کیس کے مجرموں کی رہائی جہاں بھارت بھر میں سخت مخالفت کی جا رہی ہے وہیں اپوزیشن رہنما پرینکا گاندھی نے بھی اس معاملے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کانگریس کی انچارج جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کھری کھری سنا دی ہیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم مودی کو یہ بتانا چاہیے کہ انہیں خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کرنے والوں میں ہی بھلائی کیوں نظر آتی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ بلقیس بانو معاملے میں رہا ہونے والے دو مجرموں نے پیرول پر رہتے ہوئے جنسی تشدد کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

پرینکا گاندھی اسی حوالے سے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ بلقیس بانو معاملے میں بی جے پی حکومت کی طرف سے رہا کیے گئے دو مجرموں پر ایک ہزار دن کی پیرول کے دوران بھی جنسی تشدد کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دوران قید ان کا اچھا رویہ کیسے ظاہر ہوا؟ کیا آپ ملک کو بتائیں گے؟

واضح رہے کہ 20 سال قبل 2002 کے گجرات فسادات میں بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی اور ان کے خاندان کو قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کی رپورٹ درج کرانے پر اس وقت کیس سی بی آئی کو سونپا گیا تھا، مقدمہ چلنے کے بعد عدالت نے 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن رواں سال 15 اگست کو گجرات حکومت نے 11 مجرموں کو رہا کر دیا جس پر بھارت بھر میں مودی سرکار شدید تنقید کی زد میں ہے اور حکومت سے مسلسل یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں