The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے طیاروں کو حادثہ پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع

کراچی: علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قومی ایئر لائن کے دو طیاروں سے ٹرالیاں ٹکرانے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے سیفٹی اینڈ کوالٹی انشورنس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کو ویدر وارننگ جاری کردی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں موسم کی خرابی سے متعلق کنٹرول ٹاور نے پی آئی اے سمیت دیگر ایئرلائنوں کو خراب موسم کے حوالے سے قبل از وقت متنبہ کردیا تھا۔

کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے عملے کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث دونوں طیاروں کو حادثہ پیش آیا، ویدر وارننگ جاری ہونے کے باوجود کھڑے طیاروں کے  حوالے سے حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب موسم کے حوالے سے وارننگ جاری ہوتی ہے تو پی آئی اے کے عملے کی طرف سے اہم تنصیبات خصوصاً جہاز پر لگنے والی سیڑھیاں، ایمبولفٹر وغیرہ کے حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ پی آئی اے کے ایئر بس 320 طیارے سے ایمبولفٹر ٹکراگئی تھی جبکہ اے ٹی آر طیارے سے بیگج ٹرالی ٹکرائی تھی، دونوں طیاروں کو نقصان پہنچنے کے باعث گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔

حکومت کا جاتے جاتے ایک اور کارنامہ، چیئرمین پی آئی اے کی خلاف ضابطہ تعیناتی


ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد پی آئی اے کے ایس او پی کے تحت انجینیرز اور سیفٹی اینڈ کوالٹی انشورنس کی ٹیمیں طیاروں کا معائنہ اور تحقیقات کر رہی ہیں۔

قومی ایئر لائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے میں اگر انسانی غلطی یا جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں زبردست طوفان باد و باراں کے نتیجے میں پی آئی اے کے دو کھڑے طیاروں سے ٹرالیاں اور لفٹر ٹکرانے سے طیاروں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ایک طیارے کی باڈی میں باقاعدہ سوراخ ہوگیا تھا۔ اس حادثے کے بعد فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا، PK654 کو کچھ دیر میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونا تھا جب کہ PK244 کا روٹ دمام سے سیالکوٹ تھا تاہم طوفان کی وجہ سے لاہور میں راستہ بدلنا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں