The news is by your side.

Advertisement

اوکس بیکر “قاتل” یا “فاتح”؟

اگر آپ ایک عام ڈیل ڈول والے انسان ہیں اور کسی روز اوکس بیکر کو بغیر دیکھے، جیساکہ فون پر اس کے ساتھ الجھ پڑے ہیں تو یقینا یہ پریشان کن ہے۔ جب آپ کا سامنا اوکس بیکر سے ہو گا تو اسے دیکھ کر ہی آپ کا دَم نکل سکتا ہے۔

کمان جیسے ابرو، لمبی مونچھیں اور کرخت چہرے کے ساتھ اس چوڑے چکلے جسم والے انسان سے کوئی بھی بھڑنا نہیں‌ چاہے گا اور یہ جان کر تو ہرگز ہرگز نہیں‌ کہ وہ ایک پہلوان ہے اور ریسلنگ کے اکھاڑے میں طاقت آزمائی کے دوران دو حریفوں کو ابدی نیند سُلا چکا ہے۔

ویسے اب یہ کسی طور ممکن نہیں‌ کہ کبھی آپ کا اوکس بیکر سے سامنا ہو، کیوں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے!

1934 میں پیدا ہونے والے ڈگلس بیکر نے ریسلنگ کی دنیا میں اوکس بیکر کے نام سے شہرت پائی۔ اس کا تعلق امریکا سے تھا جہاں 2014 میں‌ اس کی زندگی کا سفر تمام ہوچکا ہے۔

ہم نے جن دو ریسلروں کی مقابلے کے دوران ہلاکت کا ذکر کیا ہے، ان کی موت بھی قتل نہیں‌ بلکہ حادثاتی تھی۔

وہ ایسے بدقسمت ریسلر تھے جو رِنگ میں اوکس کا مقابلہ کرنے کے دوران داؤ پیچ برداشت نہ کرسکے اور اس پہلوان کے وار کی وجہ سے ان کی حرکتِ قلب بند ہوگئی۔ طبی رپورٹ میں‌ اسے ہارٹ اٹیک کہا گیا۔

پہلا واقعہ 1971 کا ہے جب اوکس بیکر نے اپنے حریف البرٹو ٹورس کو سخت مقابلے کے دوران ایک داﺅ لگایا اور اس دوران ٹورس حرکتِ قلب بند ہوجانے سے چل بسا۔

1972 میں یعنی اس افسوس ناک حادثے کے اگلے سال ہی ریسلر رے کیونکل بھی رِنگ میں اوکس کو شکست دینے کا خواب سجائے اترا، لیکن مقابلے کے دوران ہارٹ اٹیک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا۔

ان مقابلوں کے “قاتل فاتح” اوکس بیکر پر کوئی مقدمہ چلا اور نہ ہی کسی نے حریف ریسلروں کی موت کا الزام دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں