site
stats
پاکستان

متحدہ لندن رہنما حسن ظفر عارف رہا

کراچی: ایم کیو ایم لندن کے رہنما اور سینئر پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 22 اگست کے بعد بانی ایم کیو ایم کی حمایت میں کھڑے ہونے والے پروفیسر کو گزشتہ برس اکتوبر کی 22 تاریخ کو کراچی پریس کلب کے باہر سے کنور خالد یونس کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں پریس کلب میں موجود تیسرے رہنما امجد اللہ کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام منتقل کیا گیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تینوں کو ایم پی او کے تحت سینٹرل جیل منتقل کردیا تھا۔

پڑھیں: ’’ متحدہ لندن کے رہنما حسن ظفر اور کنور خالد پریس کلب سے زیر حراست ‘‘

کنور خالد یونس کو طبیعت ناسازی کے باعث پہلے رہا کردیا گیا تھا جبکہ دوسرے رہنما امجد اللہ امجد کو گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا اور انہوں نے رہائی کے فوری بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پروفیسر حسن ظفر عارف اور امجد اللہ امجد پر اشتعال انگیز اور ملک مخالف تقاریر میں سہولت کاری کا الزام تھا اور اُن کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔

قبل ازیں متحدہ لندن کے رہنما کو عدالتی احکامات پر رہائی دی گئی تھی تاہم سینٹرل جیل کے باہر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوبارہ گرفتار کر کے پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم وہی ہے جس کے ساتھ قائد تحریک ہیں،ڈاکٹر حسن ظفر 

گزشتہ ہفتے عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد پروفیسر حسن ظفر عارف کی رہائی کے احکامات جاری کردیے گئے تھے مگر کچھ قانونی پہلو کے باعث رہائی ممکن نہیں ہو پائی تھی تاہم آج قانونی نکات کو پورا کر کے پروفیسر حسن ظفر عارف کو رہا کردیا گیا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ حیدرآباد سے گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم لندن کے رہنما مومن خان مومن کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 22 اگست کی متنازع تقریر کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے اظہار لا تعلقی اور اپنی راہیں جدا کرنے کے بعد ایم کیو ایم لندن کی جانب سے بنائی گئی نئی رابطہ کمیٹی میں ڈاکٹر حسن عارف ظفر اور کنور خالد یونس کو اہم ذمہ داری دی گئی تھی اور ایم کیو ایم لندن کی پہلی پریس کانفرنس بھی ڈاکٹر حسن ظفر کی سربراہی میں کی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top