The news is by your side.

Advertisement

پراپرٹی کی اضافہ شدہ قیمت میں ہر سال 10فیصد اضافہ کرنے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان بھر میں پراپرٹی کے یکساں اور مارکیٹ قیمت کے مطابق قیمتیں مقرر کرنے کےلیے وفاقی حکومت کی جانب سے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ پراپرٹی کی قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک کے افسران کی تعناتی کے فیصلے سے بھی حکومت دستبردار ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے ریونیو ہارون اختر کی صدارت میں غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمتیں مقرر کرنے کے لیے قائم شدہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں جائیداد کی مارکیٹ ویلیو پر ویلیوایشن کے طریقہ کار اور یکم جولائی 2016 سے پچھلے سالوں کی پراپرٹی کے لین دین کا حساب کتاب زیر غور آیا ۔

اس موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے رئیل اسٹیٹس ایجنٹوں اور بلڈرز ڈویلپرز کے نمائندوں نے ویلیوایشن کے طریقہ کار کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں،کمیٹی نے تجاویز کو آج وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پیش کیا جائے گا جہاں حتمی فیصلے کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مشاورت کے بعد آخری شکل دیں گے۔

ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ ٹریڈرز کے ساتھ مذاکرات کر کے حتمی تجاویز کو اجلاس میں رکھا جائے گا اور مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے شہروں کی فیئر مارکیٹ ریٹ متعین کیا جائے گایہ فیصلہ ہوگا اس حوالے یہ ریٹ اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے شہروں کے لئے مقرر ہوگا جو ڈی سی ریٹ سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔

جائیداد کی خرید و فروخت اور ویلیو ایشن کیلئے انکم ٹیکس قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پراپرٹی کی اضافہ شدہ قیمت میں ہر سال 10فیصد اضافہ کیا جائے گا تا ہم ان فیصلوں کا اطلاق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مشاورت کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں