The news is by your side.

Advertisement

سات سو سال تک زندہ رہنے والے ہندوستانی صحابی رسولؓ

کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی بھارت کے ایک شہر بھٹنڈہ میں آسودۂ خاک ہیں، ان کی وہاں موجودگی سےآج بھی لوگ فیض حاصل کررہے ہیں۔

بھارتی شہربھٹنڈہ سے تعلق رکھنے والے بابا رتن ہندی کا نام رتن ناتھ ابن نصر ہے اورروایت کے مطابق وہ ایک تاجر تھے ، جو کہ عرب ممالک میں اپنے مال کی فروخت کے لیے جایا کرتے تھے ۔

بابا رتن ہندی کا تذکرہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی تصنیف ’الصحابہ جلد اول‘ میں کیا ہے۔علاؤ الدین سمنانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں ان کا ذکر کیا ہے جبکہ شاہ ولی علی اللہ نے بھی ان کا تذکرہ کیا ہے، معروف مصنف اشفاق احمد نے بھی اپنی مشہورزمانہ تصنیف زاویہ میں ان سے منسوب ایک کرامت کا تذکرہ کیا ہے ۔

روایت ہے کہ رتن ہندی اپنی جوانی میں عرب کا سفر کررہے تھے کہ ایک خوبصورت کمسن چرواہے کو ، جس کی عمر سات سال کے لگ بھگ تھی ، انہوں نے مشکل میں دیکھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی تو اس حسین نقوش کے حامل بچے نے حیرت انگیز طور پر انہیں سات بار دعا دی کہ ’اللہ تمہیں طویل عمر عطا کرے‘۔

رتن اس کے بعد واپس ہند لوٹ آئے اور اپنے کاروبارِ حیات میں مشغول ہوگئے ،لگ بھگ 50 سال بعد ہند والوں نے شق القمر کا واقعہ دیکھا تو اس کا خوب تذکرہ ہوا، عرب سے آنے والے قافلے والوں نے بتایا کہ یہ کام وہاں قیام پذیر ایک ’اوتار‘ ( الہیٰ نمائندے ) نے کیا ہے ۔ یہ سن کر بابا رتن ہندی کے دل میں خواہش ہوئی کہ وہ اس اوتار کی زیارت کریں ، سو ایک بار پھر سامانِ تجارت لیا اور عرب کےسفر پر روانہ ہوئے ۔ مکے پہنچے توپتا چلا کہ چاند کے دو ٹکرے کرنے والی شخصیت یہاں سے جاچکی ہے اور اب مدینے میں قیام پذیر ہے۔

اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے رتن ہندی مدینے چلے آئے اور سیدھے مسجدِ نبوی ﷺ پہنچے تو دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اصحاب کے جھرمٹ میں بیٹھے انہیں تعلیم فرما رہے ہیں۔ رتن کی آمد پر وہ ا ن کی جانب متوجہ ہوئے اور آمد کا مقصددریا فت کیا تو انہوں نے کہا کہ معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

ہند سے مدینے آنے والے اس تاجر کی بات پراللہ کے رسول ﷺ شفقت سے مسکرائے اور فرمایا کہ اے رتن ہندی! کیا بچپن میں جو میں نے تجھے طویل عمر کی دعا دی تھی ، وہ مجھ پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہ سننا تھا کہ رتن ناتھ نے کلمہ حق بلند کیا اور حضرت رتن رضی اللہ تعالی ٰ عنہہ قرار پائے۔

اس سےآگے روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ کا خیال ہے کہ وہ پھر وہیں زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے ، کچھ کے نزدیک وہ چند دن وہاں گزار کر واپس اپنے وطن بھٹنڈہ لوٹ آئے اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت شروع کی۔

مشہور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بچپن میں دی دعا کی برکت سے وہ سات سو سال تک زندہ رہے اور برصغیر میں دین کی تبلیغ کرتے رہے۔شیخ رضی الدین علی ابن سعید لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے 624 ہجری میں ہند کا دورہ کیا تو حضرت رت ہندی حیات تھے ، اور انہوں نے شیخ کو خود رسول اللہ ﷺ کی مجلس کا آنکھوں دیکھا حال سنایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں