اسلام آباد : سینیٹ قائمہ کمیٹی برائےقومی صحت کے اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان سال میں ایک کے بجائے دو بار منعقد کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی ذیلی کمیٹی نے میڈیکل تعلیم، ایم ڈی کیٹ امتحان اور میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں خالی نشستوں کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ پالیسیوں پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے تجویز دی کہ طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا امتحان سال میں ایک بار کے بجائے دو مرتبہ منعقد کیا جائے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ نوجوانوں کو نہ ملک میں مناسب تعلیمی مواقع میسر ہیں اور نہ ہی بیرون ملک تعلیم کے لیے آسانیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔
کمیٹی نے نشاندہی کی کہ میڈیکل تعلیم پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔
کمیٹی نے نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں اور گریجویٹس کو دستیاب کم تنخواہوں کے درمیان عدم توازن پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ارکان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ قبول نہیں کر سکتا۔
اجلاس میں ڈینٹل گریجویٹس کی ڈگریوں کی عالمی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے جبکہ ڈاکٹروں اور طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے الگ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی گئی۔
ذیلی کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ اپنی سفارشات آئندہ کونسل اجلاس میں پیش کرے۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وائس چانسلرز اور طلبہ کے نمائندوں کو طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ تمام فریقین کا مؤقف تفصیل سے سنا جا سکے۔
کمیٹی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں خالی نشستوں کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے، پالیسیوں میں شفافیت لانے اور میڈیکل تعلیم کے نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
تاہم اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ میڈیکل تعلیم سے متعلق معاملات پر صوبوں اور پی ایم ڈی سی کے درمیان اختلافات طلبہ کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ طلبہ کے مسائل کے حل اور میڈیکل تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔


