The news is by your side.

Advertisement

قطری شہزادے کا محافظ کو دو افراد کے قتل کے حکم کا انکشاف

واشنگٹن : برطانوی ذرائع ابلاغ نے قطر کے شاہی خاندان کے ایک نئے اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے امیر قطر کے بھائی کے ایک ذاتی محافظ کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ اسے دو افراد کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

برطانوی اخبارنے امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد کے سوتیلے بھائی خالد بن حمد الثانی کو ایک شرارتی(پلے بوائے)قراردیا ہے جو دیوانگی یا زیادہ تر نشے کی حالت میں رہتا ہے۔ الشیخ خالد بن حمد آل ثانی سنہ 2017 اور 2018 کے دوران امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں قیام پذیر رہے۔

اس دوران ایک سابق نیول اہلکار ماتھیو پیٹرڈ نے ان کےذاتی محافظ کی خدمات انجام دیں۔

پیٹرڈ کا کہنا تھا کہ خالد بن حمد نے انہیں دو افراد کے قتل پر اکسایا تھا،پیٹرڈ کے ساتھ سابق امیر قطرحمد بن خلیفہ الثانی کے بیٹے خالد بن حمد کے خلاف ان کا ذاتی معالج میتھیو الینڈے بھی مقدمہ چلا رہا ہے جس نے اسی وقت خالد بن حمد کو طبی ساتھی کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔

الینڈے کا کہنا تھاکہ خالد بن حمد کے ساتھ محافل وموسیقی میں اکثر مسلسل 36 گھنٹے ساتھ رکھاجاتا۔ پھر جب وہ خالد بن حمد کے محل سے دیوار پھلانگ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران زخمی ہوا تو اسے واقعی یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

پیٹرڈ اور الینڈے نے امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں قطر کی شاہی شخصیت کے خلاف 34 ملین ڈالر کے ہرجانے کا دعوی دائر کررکھاہے۔

انہوں ے اپنے دعوے میں ذاتی محافظ کی خدمات انجام دیتے ہوئے تن خواہ نہ ملنے، اضافی وقت کام کرنے، زخمی ہونے اور ظالمانہ انداز میں ملازمت سے فارغ کرنے جیسے نکات شامل کیے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں