قصور زیادتی پر احتجاج: پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

قصور زیادتی پر احتجاج: پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

لاہور: صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 7 سالہ بچی زینب کے قتل اور زیادتی کے خلاف لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل افراد نے ڈی سی او اور ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کرلیا۔ پولیس کی فائرنگ سے دو شخص جاں بحق جبکہ دو مظاہرین زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق چار روز قبل ننھی زینب کو اجتماعی زیادتی و قتل کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے جس سے شہر کے حالات کشیدہ ہوگئے۔ مشتعل مظاہرین نے ڈی سی او اور ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کرلیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر بھی اٹھا رکھے ہیں جبکہ مظاہرین کی جانب سے ڈی پی او آفس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

مشتعل افراد نے مرکزی کچہری چوک بھی بند کردیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین پر ہوائی فائرنگ کی جس سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 1 زخمی دم توڑ گیا۔ زخمی شخص کی شناخت محمد علی کے نام سے ہوئی۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کردی گئی تھی۔ شہر میں دکانیں، مارکیٹس و دیگر تجارتی مراکز بند کردیے گئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ بار نے بھی ہڑتال کردی ہے۔

بچی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ زینب کے والدین کی عمرے سے آج واپسی ہو رہی ہے جس کے بعد بچی کی نماز جنازہ ادا کردی جائے گی۔


رانا ثنا اللہ نے کشیدگی کی ذمہ داری میڈیا پر ڈال دی

دوسری جانب اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے قصور میں کشیدہ حالات کی ذمہ داری میڈیا پر ڈال دی۔

اندوہناک واقعے پر اظہار مذمت کرنے کے بجائے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ میڈیا قصور کے عوام کو مشتعل کر رہا ہے۔ لوگوں کو تقریروں اور ایسے جذباتی بیانات سے مشتعل نہ کریں۔

انہوں نے میڈیا کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اشتعال نہ پھیلائیں۔ آپ لوگوں کی کوشش یہ ہی ہے کہ پنجاب میں آگ لگے۔

اس دوران ان سے سنہ 2015 میں قصور اسکینڈل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا دعویٰ تھا کہ قصور اسکینڈل کے تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچ چکے ہیں تاہم پوچھنے پر وہ ایک بھی ملزم کا نام بتانے سے قاصر رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج جمع کرلی گئی ہیں۔ ملزم کی کافی حد تک شناخت کرلی گئی ہے جبکہ پولیس اور انتظامیہ ملزمان کی بھرپور انداز میں تلاش کر رہے ہیں۔


ملزم کا خاکہ جاری

دوسری جانب پنجاب پولیس نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے مبینہ ملزم کا خاکہ جاری کردیا ہے۔

یاد رہے کہ قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی شہری 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ بچی کے والدین عمرے کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ بچی اپنی خالاؤں کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔

چار روز بعد بچی کی لاش قصور کی ایک کچرا کنڈی سے دریافت ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئی جی کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

خیال رہے کہ قصور میں بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سنہ 2017 میں قصور میں بے شمار بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ تاحال پولیس ایک بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

قصور میں رینجرز طلب

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قصور کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

رینجرز تعینات کرنے کی منظوری کمشنر لاہور کی درخواست پردی گئی، احتجاج کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ پولیس کی براہ راست فائرنگ سے دو افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں