The news is by your side.

Advertisement

برطانوی پارلیمنٹ معطل، لاکھوں افراد کا احتجاج، عدالت میں فیصلہ چیلنج

لندن: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارلیمنٹ سیشن معطل کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ملکہ برطانیہ کی جانب سے پارلیمنٹ سیشن 14 اکتوبر تک معطل کرنے کی درخواست کی منظوری دی گئی تھی جس کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

رپورٹ کے مطابق لندن سمیت بیشتر شہروں میں نو ڈیل بریگزٹ کے مخالفین نے ریلیاں نکالیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے اقدام کے خلاف درخواست پر دس لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کرچکے ہیں اور اسکاٹش کورٹ میں فیصلہ چیلنج بھی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ملکہ برطانیہ نے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی، برطانوی میڈیا

اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان کو معطل کرنا قابل قبول نہیں ہے۔

ممبر پارلیمنٹ ٹریسی بارین نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کی معطلی غیرجمہوری عمل ہے، لیبر پارٹی دیگر جماعتوں کے ساتھ معطلی روکنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کہتے ہیں کہ 14 اکتوبر کے بعد بھی ارکان پارلیمان کے پاس نوڈیل بریگزٹ پر بحث کے لیے کافی وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ ہم ملک کو متحرک کرنے جارہے ہیں ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں