The news is by your side.

Advertisement

لبنان میں پرتشدد مظاہرے، فوج طلب، 400 سے زائد مظاہرین زخمی

بیروت: لبنان کے دارالحکومت میں شروع ہونے والے مظاہرے شدت اختیار کرگئے، حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں چار سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جاری حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کرگئے، مظاہرین اور لبنانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات تیزی کے ساتھ رپورٹ ہورہے ہیں، کشیدہ صورتحال کی وجہ سے حکومت نے فوج کو طلب کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان میں گذشتہ تین ماہ سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن مظاہرے جاری تھے البتہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کے ایکشن کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کردیا۔

مظاہرین کا پہلا مطالبہ تھاکہ سعدالحریری وزیراعظم کے عہدے سے مستعفیٰ ہوں، انہوں نے دسمبر میں استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے موجودہ کابینہ کی برطرفی اور فوری طور پر نئی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

ریڈکراس اور سول ڈیفنس کے اداروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 377 افراد زخمی ہوچکے ہیں البتہ ابھی یہ تعداد حتمی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: لبنانی مظاہرین کی فتح، وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا اعلان

سعد الحریری نے لبنان کی حالیہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’مظاہروں کے طوفان کو پرامن کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وقت ضائع کرنا بند کریں اور فوری طور پر حکومت بنا کر مسائل کو حل کریں کیونکہ اس وقت فوج اور مظاہرین آپس میں محاذ آرائی کررہے ہیں‘۔

اتوار کو ہونے والے ہنگاموں کا آغاز اس وقت ہوا جب منہ پر کپڑے لپیٹے مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف جانے والی سڑک پر کھڑے پولیس اہلکاروں پر پتھر، گملے اور دیگر اشیا پھینکیں، مشتعل مظاہرین نے خاردار تاریں ہٹا کر ایوان کی طرف جانے کی کوشش بھی کی، پولیس کے روکنے پر انہوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا شروع کیا اور یہ سلسلہ مختلف شہروں تک پھیل گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں