The news is by your side.

Advertisement

دانتوں کے درد اور حساسیت سے نجات کا آزمودہ طریقہ

صاف، صحت مند اور چمکتے دانت نہ صرف خوش ذوقی کی علامت ہوتے ہیں بلکہ انسانی نفیسات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ دانت کے درد میں وہ تڑپ پوشیدہ ہے کہ دردِ دل، دردِ گردہ، دردِ جگر تو اس کے مقابلہ میں ’’عین راحت‘‘ ہیں اسی لیے وہ دندان ساز سے رجوع کرنے کے بجائے گھریلو ٹوٹکے آزمانا شروع کردیتے ہیں۔

اورل ہیلتھ (دانتوں کی صحت کا عالمی دن) 20 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جس کا مقصد دانتوں کی صحت سے متعلق عوام میں آگاہی و شعور بیدار کرنا ہے۔

اکثر افراد کو کھانے پینے کے دوران دانوں اور مسوڑوں میں تکلیف اور حساسیت کا احساس ہوتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ترش اور میٹھی غذاوٗں کا استعمال دانتوں کےلیے نقصان دہ ہے اور منہ یا دانتوں کی خرابی سے جنم لینے والی بیماریاں سنگین مسائل کی صورت اختیار کرجاتی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر دندان ساز ( ڈینٹسٹ ) ڈاکٹر فاطمہ خٹک نے بتایا کہ دانتوں کا کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کا علاج ممکن ہے لیکن لوگ لاشعوری کی وجہ سے ڈینٹسٹ سے صرف اس وقت رجوع کرتے ہیں جب ان کے دانتوں یا مسوڑوں میں درد ہو۔

دوسری جانب مغربی ممالک کے لوگ سال میں چار مرتبہ اپنے دانتوں کی صفائی اور چیک اپ کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تاکہ ان کے دانتوں کی صحت بہتر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو چاہیے کہ وہ دانتوں کی حفاظت کیلیے سائنسدانوں اور ماہر دندان سازوں کی مدد سے تیار کیے گئے معیاری ٹوتھ پیسٹ  کا استعمال کریں ۔

انہوں نے کہا کہ دانتوں کی دو تہہ ہوتی ہیں بیرونی تہہ سخت ہوتی ہے جب کہ اندرونی تہہ ملائم ہوتی ہے جس میں چھوٹی چھوٹی ٹیوبز ہوتی ہیں، جو حساسیت کو تیسرے حصے نرو تک پہنچاتی ہے۔

 معیاری ٹوتھ پیسٹ کے روزانہ استعمال سے بیرونی تہہ کی مرمت ہوتی ہے اور داتنوں کی صحت بہتری آتی ہے۔  ٹوتھ پیسٹ کو 12 سال سے زائد عمر کے بچے اور افراد استعمال کرسکتے ہیں اور اسے روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں