site
stats
اہم ترین

ضمنی الیکشن پی ایس114، پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا

کراچی: سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نے میدان مارلیا۔

تفصیلات کے مطابق 92 پولنگ اسٹیشنز سے غیر سرکاری نتائج موصول ہوئے جس میں پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی 23840 ووٹ لے کر سرفہرست جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کامران ٹیسوری 18106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار 5098 ووٹ لے کر تیسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار 5353 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔

قبل ازیں پولنگ کے دوران چنیسر گوٹھ میں پولنگ اسٹیشن پر دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم ہونے کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے تاہم رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن سے ایک شخص کو اسلحے سمیت جبکہ دو خواتین کو رینجرز اہلکاروں سے بدتمیزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

پی ایس 114 میں ایک لاکھ 93 ہزار 892 ووٹرز ہیں، پولنگ کے لیے 92 اسٹیشنز بنائے گئے تھے۔ پی پی کے امیدوار سعید غنی نے رینجرز پر متعصبانہ رویے کے الزام بھی عائد کیا تھا تاہم ڈی جی رینجرز نے الزام کو مسترد کردیا تھا۔

یا درہے کہ عدالت نے دھاندلی ثابت ہو جانے پرمسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے عرفان اللہ مروت کونااہل قرار دے کر انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور اس حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا تھا جس پر عمل در آمد کراتے ہوئے آج پی ایس 114 پر ضمنی انتخاب کےلیے پولنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔

چند پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی 


عام تعطیل ہونے کے باعث پولنگ کا آغاز قدرے سست رہا تاہم گیارہ بجے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا اور اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیے تاہم 12 بجے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا گیا اور چنیسر گوٹھ میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکنان میں تصادم کے باعث کشیدگی پھیل گئی۔

جب کہ ایڈمن سوسائٹی کے پولنگ اسٹیشن پرایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان کے درمیان نعرے بازی کے دوران ماحول گرم ہو گیا تاہم فاروق ستار اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے کارکنان کو نعرے بازی سے منع کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن سے دور ہٹا دیا۔

رینجرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا جس میں سے ایک ملزم کے سے نائن ایم ایم پستول بھی برآمد ہوئی اسی طرح رینجرز پر ہاتھ اٹھانے والی دو خواتین کو بھی خاتون رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لے لیا جس کے بعد صورت حال پر قانو پالیا گیا۔

ڈی جی رینجرز کا متاثرہ پولنگ اسٹیشن کا دور 


*ڈی جی رینجرز محمد سعید نے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ملتے ہی چنیسر گوٹھ کے پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا* اور مجموعی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 92 پولنگ اسٹیشن میں سے ایک پولنگ اسٹیشن پر بد نظمی کی اطلاع ملی ہے۔

ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی پر دھاندلی کا الزام 


دوسری جانب تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے پاکستان پیپلز پارٹی پرچنیسر گوٹھ کے پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی چنیسر گوٹھ کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے جہاں سرکاری وسائل کا بےدریغ استعمال جاری ہے۔

جب کہ پیپلز پارٹی کے امیداوار سعید غنی کا کہنا تھا کہ مجھے اور میری فیملی کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے اور چنیسر گوٹھ میں میرے گھر کی خواتین کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی اور اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے کہ رات گئے پولنگ اسٹیشن کا عملہ کہاں گیا تھا۔

پی ایس 114 کے امیدوار 


پی ایس 114 کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی سے سینیٹر سعید غنی، ایم کیو ایم سے کامران ٹیسوری، تحریک انصاف سے نجیب ہارون، جماعت اسلامی ظہورالحق، ن لیگ سے علی اکبر گجر، جمیعت علماٗ اسلام سے دانیال گجر سمیت 20 آزاد امیدوار میدان میں ہوں گے تاہم پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، اورایم کیو ایم پاکستان کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

پی ایس 114 میں ووٹرز اور پولنگ اسٹیشن کی تعداد 


پی ایس 114 میں کل رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد 1 لاکھ 93 ہزار8 سو 92 ہے، جن میں سے خواتین ووٹرز کی تعداد 81 ہزار 6 سو 89 ہے،جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 12ہزار 2 سو 3 ہے۔

حلقے میں مجموعی طور پر 92 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے، جن میں سے 32پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس جبکہ 60 کو حساس قرار دیا گیا تھا،  پولنگ اسٹیشنز کے باہر رینجرز اور پولیس کی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔

واضح رہےکہ انتخابی عمل صبح آٹھ بجے سے شام بجے تک جاری رہا، انتخابات میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیئے پولیس اور رینجرز کی بڑی تعداد کو علاقے میں تعینات کیا گیا تھا،


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top