The news is by your side.

Advertisement

کراچی پر قابض متحدہ کو پی ایس 114سے امید وار بھی نہیں ملا: کائرہ

کراچی: پیپلزپارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ کراچی کی تبدیلی کا آغاز پی ایس 114 سے ہوگا، جے آئی ٹی کے کام کے سبب شریف خاندان حواس کھو بیٹھا ہے۔

کراچی منظور کالونی میں حلقہ پی ایس 114 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے سعید غنی کو تبدیلی کے طور پر پیش کیا ہے، اور کراچی کی تبدیلی کا آغاز 9 جولائی کو پی ایس 114 سے ہوگا۔

اس موقع پر قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جو پارٹی کراچی پر قبضہ کرکے بیٹھی تھی اس جماعت کو حلقہ پی ایس 114 کے لیے امیدوار ہی نہیں ملا۔

انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’وہ جن کو گالیاں دیتے تھے آج انہی کو اپنے ساتھ لیے کھڑے ہیں‘‘۔

قمر زمان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شریف خاندان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جب شریف فیملی جے آئی ٹی سے نکلتے ہیں تو پوچھتے ہیں ہم نے کیا کیا ہے؟‘جے آئی ٹی نے کام شروع کیا تو آپ حواس کھو بیٹھے۔


 پی ایس114کے تمام پولنگ اسٹیشن حساس قرار


اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا، ان کا کہنا تھا کہ جو ٹھپا مافیا ہے وہ بند ہوگیا ہے یہ تاریخی الیکشن ہوگا کیوں ٹھپا مافیا کی بوری بند ہوگئی ہے اب دھونس دھاندلی کرنے والوں کو یہاں سے بھگائیں گے۔،

پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار سینیٹر سعید غنی نے اس موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس 114 کے ضمنی الیکشن میں سیاسی جماعتوں کی دوڑیں لگیں ہوئی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس مسلم لیگ ن کا الیکشن سیل بنا ہوا ہے‘ ایم کیو ایم محمود آباد کی گلیوں میں رل رہی ہے، اور پی ٹی آئی نے خزانے کے منہ کھولے ہوئے ہیں، جن لوگوں نے ساری زندگی حلقے کا چکر نہیں لگایا تھا وہ آج حلقے میں تین تین نمازیں پڑھ رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کاغذات نامزدگی مشیرمحنت و افرادی قوت سعید غنی نے جمع کرائے ہیں جو قبل ازیں سینیٹر بھی رہ چکے ہیں جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حال ہی میں پارٹی جوائن کرنے والے اور نو منتخب رکن رابطہ کمیٹی کامران ٹیسوری نے کاغزات نامزدگی ضلع شرقی کے دفتر میں جمع کرادیئے ہیں۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کی جانب سےانجینئرندیم ہارون جب کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تین امیدواروں نویدانورڈھلو،علی اکبرگجر اورزاہد شاہ میرنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

یاد رہے اس حلقے سے 2013 کے عام الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوارعرفان اللہ مروت ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار روف صدیقی سے چھ ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے جسے الیکشن کمیشن میں چیلینج کیا گیا جہاں انتخاب کو کالعدم قراردیا گیا تاہم کامیاب امیدوار نے اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا تاہم عدالتوں نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں