لاہور (12 مئی 2026): وزیر صنعت و تجارت کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب اسمال انڈسٹریزکارپوریشن کے زیر انتظام اسمال انڈسٹریل اسٹیٹس سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جس میں صوبے بھر میں صنعتی سہولیات کی بہتری، مالیاتی استحکام اور نئے صنعتی مواقع کی فراہمی کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
پیسک ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جب کہ منیجنگ ڈائریکٹر پیسک مبین الہٰی نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں پنجاب بھر کے اسمال انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی، اضافی پلاٹس کی فروخت، مالیاتی امور اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم منظوریوں کی منظوری دی گئی۔
بورڈ نے حکومت کے 1.3 ارب روپے کے قرضے کی واپسی کی منظوری دے دی، جب کہ 20 اسمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں سروے کے دوران سامنے آنے والے 403 اضافی پلاٹس فروخت کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔ حکام کے مطابق ان پلاٹس کی فروخت سے تقریباً 11 ارب 22 کروڑ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے، جس سے ادارے کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوگا اور صنعتی ترقی کے نئے منصوبوں میں معاونت ملے گی۔
سرمایہ کاروں کے لیے خوشخبری، اسلامی بروکریج ونڈوز کھولنے کی منظوری
اجلاس میں پیسک کی ناکارہ اور غیر فعال پراپرٹیز کی نیلامی کے شیڈول کی بھی منظوری دی گئی تاکہ غیر استعمال شدہ اثاثوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسمال انڈسٹریل اسٹیٹ منڈی بہا الدین کے نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری بھی دی گئی۔
بورڈ نے پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے لیے فنانشل ایڈوائزری سروسز حاصل کرنے کی منظوری بھی دی، جس کے تحت ادارے کے لیے فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا جائے گا تاکہ مالیاتی منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ادارے کے دائرہ کار میں مزید وسعت آئے گی، جس سے صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس کے علاوہ 23 اسمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے پروگرام کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ جاری ترقیاتی کاموں کی مؤثر مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کو اسمال انڈسٹریل اسٹیٹ قائد آباد کے قیام کے لیے جاری سول ورک پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


