کراچی (4 اپریل 2026): بابر اعظم نے قومی ٹیم کی قیادت بھی کی اور پی ایس ایل فرنچائز کی بھی انہیں بطور کپتان پہلی ٹرافی جیتنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔
بابر اعظم پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ بیٹر اور ریکارڈ ساز کھلاڑی ہیں، جو کئی سال تک قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں اور 4 سال سے پی ایس ایل میں مختلف فرنچائز کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔
تاہم بطور کپتان انہیں کسی بھی سطح کی کرکٹ پر پہلی ٹرافی اٹھانے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا اور یہ انتظار گزشتہ شب اس وقت ختم ہوا، جب بطور پشاور زلمی کپتان انہوں نے فائنل میں حیدرآباد کنگزمین کو زیر کر کے پہلی ٹرافی اٹھائی۔
بابر اعظم 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے جب کہ پی ایس ایل میں بھی دو مرتبہ کسی فرنچائز کا حصہ رہتے ہوئے پی ایس ایل ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔
تاہم ہر کپتان کی طرح ان کا بھی خواب تھا کہ بطور کپتان وہ ٹرافی اٹھائیں۔ تاہم ان کا یہ انتظار 6 سال پر محیط ہو گیا اور یہ خواب ان کا پی ایس ایل 11 میں پورا ہوا۔
بابر اعظم کو 2020 میں سرفراز احمد کی جگہ قومی ٹیم کپتان مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں گرین شرٹس نے ایک آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ، 3 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلے جب کہ تین ایشیا کپ میں بھی انہوں نے قیادت سنبھالی۔
تاہم آئی سی سی کے 5 اور ایشین کرکٹ کونسل کے تین ٹورنامنٹس میں ایک میں بھی ان کا ٹرافی اٹھانے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
ان کی قیادت میں قومی ٹیم ایک بار ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل تک بھی پہنچی تاہم ایک قدم دور ان کا ٹرافی اٹھانے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔
پی ایس ایل میں انہیں پہلی بار 2022 میں کراچی کنگز کی قیادت کا موقع ملا جب کہ 2023 سے وہ پشاور زلمی کے کپتان ہیں۔
اپنی قیادت میں پہلا پی ایس ایل جیتنے کے بعد بابر اعظم نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی ان کی ٹیم متحد رہی اور یہ فتح اسی محنت کا نتیجہ ہے۔
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔


