کراچی (9 جنوری 2026): پاکستان سپر لیگ میں دو ٹیموں کی نیلامی میں حیدرآباد ٹیم خریدنے والے فواد سرور کا ہوا دانوں کے اس شہر سے گہرا تعلق ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت ہوئی۔ اس سلسلے میں نیلامی کی تقریب ہوئی اور امریکی کاروباری گروپ ایف کے ایس کے بانی اور مالک فواد سرور نے 175 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دے کر ساتویں ٹیم خریدی اور اس کو حیدرآباد کا نام دیا۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین فواد سرور کا ہوا دانوں کا شہر کہلانے والے حیدرآباد سے بڑا گہرا تعلق ہے۔
حیدرآباد فواد سرور کا آبائی شہر ہے۔ وہ اور ان کی بہن اسی شہر میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور اسکول کی سطح تک اسی شہر میں تعلیم بھی حاصل کی۔ جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے۔ اب وہ امریکا کے شہر ٹیکساس میں مقیم ہیں۔
حیدرآباد میں پلے بڑھے فواد سرور کنگزمین اسپورٹس اینڈ انٹرپرائز کے ویژنری، بانی اور شکاگو کنگزمین کرکٹ ٹیم کے مالک ہیں، جو 2024 کی چیمپئن ٹیم رہی ہے۔
فواد سرور کا بنیادی کاروبار ایف کے ایس ہے۔ وہ ایف کے ایس سے وابستہ اور پارٹنر اداروں بشمول FKS Aviation، ProCare Health، اور Kingsmen Enterprise میں صدر / پریذیڈنٹ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
گروپ کے سربراہ فواد سرور نے ٹیم کو خریدنے میں اپنی کامیابی کا اعلان ہونے کے فوری بعد ٹیم کا نام آبائی شہر حیدرآباد سے منسوب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ذہن میں ٹیم کا مکمل نام پہلے سے موجود ہے، لیکن فی الحال ظاہر نہٰں کر سکتے، تاہم جلد اس ٹیم کا مکمل نام سامنے لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی بہن کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی، خاندان کا تعلق بھی حیدرآباد سے ہی ہے، تو اس شہر سے محبت فطری ہے۔ وہ اپنے آبائی شہر حیدر آباد کو کرکٹ کے اس باوقار پلیٹ فارم پر جگہ دلوانے کے لئے ہی ٹیم کو حاصل کرنا چاہتے تھے، اور آج یہ خواب پورا ہو رہا ہے۔
کرکٹ لور فواد نے کہا کہ انہوں نے بچپن میں حیدرآباد میں کرکٹ بھی کھیلی ہے۔ نیاز اسٹیڈیم میں پاکستان ٹیم کا میچ بھی دیکھا ہے۔ وہ کرکٹ کو عالمی سطح تک لے جانا چاہتے ہیں اور کھلاڑیوں کو فیملی کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں، جو ان کی کامیابی کا راز ہے۔
اس موقع پر انہوں نے دنیا بھر میں اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے مشہور ربڑی کی دعوت دیتے ہوئے شرکا تقریب کو کہا کہ حیدرآباد آئیں، ربڑی بھی کھلائیں گے اور چٹخارے دار کھانوں کے مزے بھی دلائیں گے۔
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔


