The news is by your side.

Advertisement

سٹے باز نے 40 لاکھ روپے کی پیشکش کی، خالد لطیف، بیانات ریکارڈ

اسلام آباد: پاکستانی کرکٹرز خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کے سامنے جرم تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ بکیز نے رابطہ ضرور کیا لیکن ہم نے ان کی پیشکش ٹھکرا دی۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے بابر خان نے بتایا کہ پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کھلاڑیوں خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان قلم بند کرادیا۔

بیان میں دونوں کھلاڑیوں نے صحت جرم سے انکار کیا اور کہا کہ بکیز سے رابطے ضرور ہوئے تاہم بکیز کی آفرز انہوں نے اسی وقت مسترد کردیں، دونوں کھلاڑیوں نے ایک ہی جیسا بیان دیا اور وہی بیان دہرایا جو انہوں نے پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ خالد لطیف نے ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوکر بیکز سے رابطوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ بکی نے 40 لاکھ روپے کی پیشکش کی لیکن آفر کو ٹھکرا دیا۔

اسی طرح محمد عرفان نے بھی رابطوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ والدہ بیمار تھیں جس کی وجہ سے بورڈ کو آگاہ نہ کرسکا۔

مزید پڑھیں:اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں پرتاحیات پابندی لگائی جائے‘ مصباح الحق

ایف آئی اے نے دو مزید کرکٹرز شرجیل خان اور شاہ زیب حسن کو بیان کے لیے کل طلب کیا گیا ہے جب کہ  ناصر جمشید کو بھی نوٹس دیا ہے لیکن و ہ بیرون ملک ہونے کے سبب پیش نہ ہوسکے۔

کل مزید دو کرکٹرز کے بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد ان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا ریکارڈ دیکھا جائے گا اور تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا جائےگا۔

دریں اثنا آج ہی وزیر داخلہ کے حکم پر پانچ کھلاڑیوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکیں۔

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے نام ای سی ایل میں شامل

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں