The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کیس بھارت اور برطانیہ نے ختم کرایا، انیس ایڈووکیٹ

کراچی: پاکستان سرزمین پارٹی کے رہنما انیس احمد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم کرکے درحقیقت بھارت اور برطانیہ نے خود کو بچایا، اگر تحقیقات عدالت میں جاتیں تو بھارت نے نقاب ہوجاتا اور برطانیہ کی سرزمین سے دہشت گردی ہونے پر سوالات کھڑے ہوجاتے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹر میں میزبان ارشد شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ الطاف حسین پر جو الزامات ختم ہوئے ہیں وہ برطانیہ میں ختم ہوئے ہیں، وہ لندن کے لیے تو صاف ہوگئے لیکن را سے تعلقات کے جو الزامات ہیں ان پر وہ الزامات بدستور قائم ہیں، بھارت اور برطانیہ کے جوآپس کے تعلقات ہیں اس کے تحت انہوں نے مل کر الطاف حسین کو بچایا درحقیقت دونوں ممالک نے خود کو بچایا۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف لندن میں کی گئی مقدمات کی تحقیقات اگر عدالت میں پیش کردی جاتیں تو بھارت بے نقاب ہوجاتا اور ساتھ ہی برطانیہ کو بھی جواب دینا پڑتا کہ اس کی سرزمین بیرون ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیسے ہوئی ، بھارت کی کشمیر اور بلوچستان میں مداخلت بھی کھل جاتی اس لیے بھارت نے سیاسی اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ مل کر الطاف حسین کو بچالیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف کیس ڈراپ کیا گیا، ہمارے اداروں کی بھی ذمہ داری تھی کہ کارروائی کراتے۔

کراچی پریس کلب میں الطاف حسین کی حمایت میں ہونے والی پریس کانفرنس کے بارے میں انہوں نے سخت تنقید کی اور کہاکہ یہ پریس کانفرنس ملک دشمنوں کی سپورٹنگ کے لیے کرائی گئی۔

انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں مصطفی کمال کے الفاظ کی حمایت کرتاہوں، گورنر سندھ عشرت العبادد استعفیٰ دیں ، ان کا نام ای سی ایل میں ڈال کر تحقیقات کی جائیں تو ان کے خلاف الزامات درست ثابت ہوجائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں