site
stats
پاکستان

وزیر اعلیٰ‌ ہاؤس جانے کی کوشش، مصطفیٰ کمال اور مرکزی قیادت گرفتار

کراچی: شاہراہ فیصل پر واقع عائشہ باوانی کے قریب پی ایس پی کارکنان سے کشیدگی کے بعد پولیس نے مصطفیٰ کمال سمیت اور مرکزی قیادت سمیت سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق شاہراہ فیصل پر واقع عائشہ باوانی  کے قریب انتظامیہ سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان نے شاہراہ فیصل کے دسرے ٹریک کو بند کیا تو پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج شروع کردیا گیا۔

لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین اورپولیس میں کشیدگی شروع ہوئی جس کے بعد پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی پوری طرح بھیگ گئے، پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال سمیت پی ایس پی کی مرکزی قیادت کو حراست میں لے لیا۔ گرفتارشدگان میں ڈاکٹر صغیر،رضا ہارون اور دیگر شامل ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا گرفتاری کے بعد پیغام

گرفتاری کے بعد مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے معصوم بچوں اور خواتین پر شیلنگ کی، انتظامیہ نے یہ کام کر کے ہمارا کام بہت آسان کردیا، اب کراچی کے ہر علاقے میں مظاہرہ ہوگا۔ مصطفیٰ کمال نے کراچی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور اپنے علاقوں میں مظاہرے شروع کریں۔

ایس ایس پی بلدیہ عبد الرزاق نے مصطفیٰ کمال کو تحویل میں لے کر تھانہ کلاکوٹ منتقل کردیا۔ مرکزی قیادت کی گرفتاری کے بعد پی ایس پی کارکنان شاہراہ فیصل سے منتشر ہوگئے اور پولیس نے مرکزی کیمپ اکھاڑ دیا اور گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا کر شاہراہ فیصل کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

آئندہ کا لائحہ عمل

بعد ازاں پی ایس پی کے کارکنان پاکستان ہاؤس پہنچے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی مٹینگ بلائی، اسی دوران کارکنان کو اس بات کا علم ہوا کہ مرکزی رہنما آفاق جمال پیر پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

پی ایس پی اسٹوڈنٹ ونگ نے پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف کل یوم احتجاج کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر سمیت تمام جامعات میں کل احتجاج کیا جائے گا جبکہ انیس قائم خانی نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاؤس میں ہونے والی مٹینگ میں بڑے فیصلے کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا مؤقف

دوسری جانب صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے ملین مارچ کو مسترد کردیا، دس لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کا دعویٰ کرنے والے 1 ہزار لوگ بھی جمع نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی سے مذاکرات کے لیے پی پی کا وفد گیا تھا مگر پی ایس پی نے مسترد کردیا، سندھ حکومت کسی بھی جماعت کو عوام کی پریشانی کا سبب نہیں بننے دے گی، پی ایس پی کے عزائم کا سب کو علم ہے اس لیے عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ صوبائی وزیر نے پی ایس پی کے رہنماء انیس ایڈوکیٹ کو چیلنج دیا کہ اگر ہمت ہے تو شہر بند کر کے دکھاؤ۔

مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ

پی ایس پی ریلی پر پولیس کریک ڈاؤن کے بعد لیاقت آباد، نیوکراچی، نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے، جس کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے گشت کو بڑھا دیا گیا۔

مقدمہ درج کرنے کی تیاری

نمائندہ اے آر وائی نذیر شاہ کے مطابق مصطفیٰ کمال اور 10 کارکنان کو کلاکوٹ تھانے منتقل کردیا گیا، پولیس ذرائع نے نمائندہ اے آر وائی کو بتایا کہ پی ایس پی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرنےغور کیا جارہا ہے۔

اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ  پی ایس پی قیادت پرمقدمہ کے معاملے پر وفاق اورسندھ حکومت میں ٹھن گئی، وفاقی حکومت نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ سندھ حکومت مقدمات درج کروانے پر بضد ہے۔

صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد پاک سرزمین پارٹی کی مرکزی قیادت دفعہ 144 سمیت دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کروائے جانے کا امکان ہے کیونکہ ریلی کے منتظمین کے پاس ایسٹ زون کی حد تک کا این او سی موجود تھا۔

مصطفیٰ کمال کی تھانے منتقلی کے بعد پی ایس پی کارکنان کی بڑی تعداد تھانے کے باہر پہنچ گئی اور وقفے وقفے سے نعرے لگائے جارہے ہیں، نقص امن کی صورتحال کے باعث پولیس کی بھاری نفری کو تھانے کے باہر تعینات کردیا گیا اور مرکزی دروازے کو بھی بند کردیا گیا۔

قبل ازیں  پاک سرزمین پارٹی اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے جس کے بعد ملین مارچ دوبارہ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب روانہ ہوا۔ پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ایس پی کے مطالبات پرغورکیا جائے گا۔

جبکہ پی ایس پی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے البتہ جسے ٹھوس اور مثبت مذاکرات کرنا ہے وہ ہمارے ملین مارچ میں آکر کر لیں۔ سولہ مطالبات میں سے10پہلےہی منظورکیے جا چکےہیں، کچھ مطالبات ایسےہیں جن میں قانونی پیچیدگیاں ہیں جنہیں دورکرنے کےبعدہی مطالبات پرعمل ہوگا۔

اس حوالے سے پی ایس پی کے رہنما رضاہارون کا کہنا تھاکہ انتظامیہ مطالبات کی منظوری کیلئےسنجیدہ نہیں ہے،

انہوں نے متنبہ کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ملین مارچ کسی صورت نہیں رکےگا۔

کراچی پولیس نےملین مارچ کےشرکاکوروکنےکے لیےکمر کس لی ہے اور ایف ٹی سی کے بعد ہوٹل میٹرو پول پر ملین مارچ کے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی جائے گی جہاں واٹر کینین بھی پہلے سے موجود ہیں۔

دوسری جانب ملین مارچ کےروٹ پرجناح اسپتال پل کے نیچے ترقیاتی کام بھی جاری ہے اور ریجنٹ پلازہ کےسامنےپل کےنیچے14فٹ تک کھدائی کی جارہی ہے جسے پار کرنے کے لیے پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان حکمت عملی طے کر لی ہے۔

واضح رہے پاک سرزمین پارٹی آج نے اپنے 16 نکات کی منظوری کے لیے ملین مارچ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایف ٹی سی چیئرمین مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ملین مارچ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب رواں دواں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top