The news is by your side.

Advertisement

مصطفیٰ کمال نے تین ماہ میں‌ کراچی صاف کرنے کا چیلنج قبول کرلیا

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے میئر کراچی وسیم اختر کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ دن رات کام کرنے والا آدمی ہوں۔

تفصیلات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے میئر کراچی کا چیلنج قبول کرلیا، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میونسپل اختیارات مجھے منتقل کیے جائیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے یوسی ناظمین کی چھٹی کا وقت آگیا ہے، میں نے شہر کی خدمت 24، 24 گھنٹے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں دن رات کام کرنے والا آدمی ہوں، چیلنج دیا ہے تو کراچی کو صاف کرکے بھی دکھاؤں گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تین ماہ کے لیے ٹرک دے دیں پورا کراچی صاف کردوں گا، پہلے ان کا ادارہ کے ایم سی کا تھا، اب وہ میرے ہاتھ آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کا انچارج اب صرف میں ہوں، جو بھی بریفنگ ہوگی ابھی میونسپل کمشنر سے بات کروں گا، مجھے ساری چیزوں کی تفصیلات چاہئے جو کام کے لیے ضروری ہیں۔

پی ایس پی سربراہ نے کہا ہے کہ کراچی کی صفائی میں مجھ پر اب کسی کا حکم نہیں چلے گا، آج سے میئر کراچی میرے باس اور میں ان کا باس ہوں، کراچی کے لوگوں کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر کچرے میں کھڑا ہونا ہوا تو وہاں بھی بریفنگ دوں گا، کراچی کی صفائی کے لیے دن رات کام کروں گا آپ مجھے دیکھ لینا، میئر کراچی سے اپیل کرتا ہوں آپ کے ذریعے سے میری کال اٹھائی جائے، میری تینوں کمشنرز نے کال نہیں اٹھائی، میں یہاں کام کرنے آیا ہوں۔

واضح رہے کہ کچھ دیر قبل میئر کراچی وسیم اختر نے مصطفیٰ کمال کو پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کیا تھا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کو پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کردیا

میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کو تمام دستیاب وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، وسیم اختر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال 90 دن میں کراچی کا کچرا اٹھا کر دکھائیں۔

یاد رہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے آج صبح چیلنج کیا تھا کہ مجھے موقع دیں 90 دن میں کراچی کا کچرا صاف کردوں گا۔

پی ایس پی سربراہ کا کہنا تھا کہ میئر وسیم اختر کا نام اے سی ایل میں ڈالا جائے، بدکردار کو لندن کا میئر بنادیں، چھ ماہ میں لیاری بنادے گا۔

مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں