The news is by your side.

Advertisement

خلا کی وسعتوں میں‌ “خزانے” کا انکشاف

مریخ اور مشتری ہمارے نظامِ شمسی کے دو ایسے سیّارے ہیں جن کے بارے میں ہم اکثر پڑھتے رہتے ہیں اور ان پر تحقیق کے ساتھ ان سے متعلق مزید انکشافات کا سلسلہ بھی جاری ہے، لیکن ان دونوں‌ سیّاروں کے درمیان گردش کرتے ہوئے ایک سیّارچے نے حال ہی میں‌ ماہرینِ فلکیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

پلینٹری سائنس جرنل میں‌ شایع ہونے والی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق یہ سیّارچہ مکمل طور پر نِکل اور لوہے کا بنا ہوا ہے۔ ماہرین نے اس کی مالیت کا تخمینہ ایک کروڑ کھرب ڈالر لگایا ہے۔ اس سیّارچے اور اس کی دھاتی خصوصیت کا کھوج امریکی سائنس دانوں‌ نے لگایا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اکثر سیّارچے چٹانوں یا برف پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن یہ سیّارچہ جس کا نام (16) سائیکی ہے، اسے مکمل طور پر دھاتی کہا جاسکتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات اور اس حوالے سے ریسرچ ٹیم کے اراکین نے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے اس سیّارچے کی ساخت کا مطالعہ کیا جس کے دوران کسی خلائی جسم سے نکلنے والی روشنی کا مخصوص طریقے سے مشاہدہ کر کے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ اس کی ساخت میں ممکنہ طور پر کون سے عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔

اس سائنسی تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر ٹریسی بیکر کے مطابق دھات سے بنے ہوئے شہابِ ثاقب تو ہم نے دیکھے ہیں، لیکن اس سیّارچے کی انفرادیت ممکنہ طور پر اس کا نِکل اور لوہے پر مشتمل ہونا ہے۔

پلینٹری سائنس جرنل کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق (16) سائیکی کا قطر تقریبا 225 کلومیٹر ہے۔ اگر ہم اس قطر (فاصلے) کو سمجھنا چاہیں‌ تو یہ فاصلہ لگ بھگ لاہور سے راولپنڈی کے برابر ہو گا‌‌۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا 2022 میں اس سیارچے کی طرف ایک مشن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سیّارچہ زمین سے تقریباً 30 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ (16) سائیکی کا کسی اور سیّارے یا سیارچے سے تصادم ہوا تھا جس میں اس کی سطح کو زبردست نقصان پہنچا اور اس کی مختلف سطحیں‌ برباد ہوجانے کے بعد صرف یہ دھاتی مرکز ہی سلامت رہ سکا جو آج ہمارے سامنے آیا ہے۔

لوہے کے علاوہ نِکل ایک بے حد قیمتی دھات ہے اور نکل سے مختلف اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ دورِ جدید میں یہ دھات بیٹریوں کی تیاری میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں