The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی اے نے 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس بلاک کر دیں

اسلام آباد : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)پی ٹی اے نے 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس بلاک کر دیں ، چیئر مین پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فحش مواد اپلوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے ، وی پی این کی مانیٹرنگ کےلئے پی ٹی اے نیا طریقہ کار لانے کی کوشش کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر سے قابل اعتراض مواد کی حامل 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 8 لاکھ 30 ہزار فحش ویب سائٹس کوبلاک کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان 50 ہزار ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا ہے جن میں عدلیہ مخالف مواد پایا جاتا ہے جبکہ مذہب مخالف مواد رکھنے والی 50 ہزار ویب سائٹس کو بھی بند کر دیا گیا۔

پی ٹی اے نے ریاست کے خلاف مواد رکھنے والی گیارہ ہزار ویب سائٹس کو بھی بلاک کیا ہے ، الیکٹرونک کرائم ایکٹ کی شق 37 کے تحت پی ٹی اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سماجی اور مذہبی معیار پر پوری نہ اترنے والی ویب سائٹس کو بلاک کر دے۔

یاد رہے پی ٹی اے کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ نے گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان میں فحش مواد پر مبنی 8لاکھ ویب سائٹس بلاک کی ہیں جن میں سے 2ہزار384 ویب سائٹس چائلڈ پرونوگرافی سے متعلق تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وی پی این اور پروکسیز کے ذریعے فحش مواد دیکھا جارہا ہے ،پی ٹی اے نے 11ہزار پراکسیز بھی بلاک کردی ہیں، پاکستان اس سلسلے میں انٹر پول سے بھی مسلسل رابطے میں ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فحش مواد اپلوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے ، وی پی این کی مانیٹرنگ کےلئے پی ٹی اے نیا طریقہ کار لانے کی کوشش کررہا ہے۔

عامر عظیم باجوہ نے کہا کہ پی ٹی اے نے فحش مواد کی مانیٹرنگ سے متعلق گوگل سے رائے مانگی تھی، گوگل نے پاکستان کے تمام ذرائع چیک کئے ہیں اور پاکستان میں فحش مواد کی مانیٹرنگ کو سنجیدگی سے لیا ہے، پاکستان کو جواب ملا کہ پی ٹی اے کی مانیٹرنگ سخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوگل نے فحش مواد کی روک تھام پرپاکستان اور خاص طور پر پی ٹی اے کی حوصلہ افزائی کی ہے ،اب اس ٹرینڈ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، پی ٹی اے فحش مواد سے متعلق یو آر ایل کی کوئی درخواست رد نہیں کرتا، عوام درخواست مت دیں صرف یو آر ایل دے دیں سائٹ بلاک ہوجائے گی۔

موبائل فون رجسٹریشن سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا 12 لاکھ موبائل فون رجسٹریشن کے بعد پی ٹی اے سسٹم میں آگئے ہیں، مارکیٹ میں موجود88 لاکھ فونز ابھی بھی پی ٹی اے کے سسٹم میں نہیں ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں