اسلام آباد (11 جنوری 2026): پشاور میں 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کامران بنگش تیمور جھگڑا عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پشاور میں 9 مئی واقعات کی ویڈیوز کی تصدیق کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور پنجاب فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔ اس رپورٹ میں موجودہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے۔
رپورٹ جو پشاور کے تھانہ شرقی کی بھجوائی گئی یو ایس بی میں موجود ویڈیوز پر مبنی ہے۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر ویڈیوز اور آڈیو ویژول کا تجزیہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے۔ چند ویڈیوز میں لوگو اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی اور عرفان سلیم کی 2 ویڈیوز میں کلپس جوڑنے کے شواہد سامنے آئے۔ سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر کو 9 مئی کی ویڈیو سے ملا کر دیکھا گیا، تو پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرفان سلیم کی پروفائل تصویر کی بھی ویڈیوز میں موجود ہونے کی تصدیق ہو گئی جب کہ
کامران بنگش کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے۔ تیمور سلیم جھگڑا کی پروفائل تصویر اور ویڈیوز میں موجود شخص میں بھی مطابقت پائی گئی۔
پنجاب فرانزک لیبارٹری نے تمام تجزیہ صرف ویژول مواد تک محدود رکھا اور یہ رپورٹ 19 سے 23 دسمبر 2025 کے دوران مکمل کی گئی۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی اور پولیس نے ویڈیوز تجزیے کیلیے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھیجی تھیں۔


