دھاندلی میں ملوث الیکشن کمیشن ہی دوبارہ انتخاب کرارہاہے، عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

دھاندلی میں ملوث الیکشن کمیشن ہی دوبارہ انتخاب کرارہاہے، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے آج این اے 122 میں آئندہ ہفتے ہونے والے ضمنی انتخابات میں طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دھاندلی میں ملوث الیکش کمیشن ہی دوبارہ انتخبات کروارہاہے۔

تحریک انصاف آج لاہور کے علاقے سمن آباد کے ڈونگی گراؤنڈ میں جلسہ کررہی ہے جس سے پارٹی کے سربراہ عمران خان، چوہدری سرور، جہانگیر ترین، علیم خان اورشیخ رشید نے خطاب کیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا خطاب


عمران خان نے جلسے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کی تاریخ کا واحد ملک ہے جوکہ اسلام کے نام پربنا ہے اور یہاں ہمیں ثابت کرنا ہے کہ درحقیقت اسلام کی تعلیمات کے لئے بنا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ لودھراں میں مسلم لیگ ن کی وکٹ گرنے والی تھی کہ اسٹے آرڈر لے لیا، شہباز شریف ساڑھے چار سال تک اسٹے آرڈر پر وزیراعلیٰ رہے، ایاز صادق ایک سال تک اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپے ہے اور سعد رفیق 5 ماہ سے اسٹے آرڈر کی آڑ میں چھپے ہیں۔

مسلم لیگ ن اپنے امپائروں کے ساتھ میچ کھیلنے کی عادی ہے اس کا نام اسٹےآرڈر لیگ رکھ دینا چاہیے۔

انہوں نے عوام سے کہا کہ 11 اکتوبرکو تحریک انصاف کے لئے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لئےووٹ دینے باہر نکلیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر کے بعد عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں پرہاتھ ڈالا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ عدل اورانصاف کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ اپنے کمزورطبقوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیتا ہے۔

عمران خان نے میاں برادران کے تجربہ کار ہونے کے دعوے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آصف زرداری کے دور کو بہتر کروادیا، بجلی کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے اور اسٹیل مل بند پڑی ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حالیہ بجٹ میں رائیونڈ محل کی دیواروں کی تعمیرِ نو کے لئے 35 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے اور نواز شریف نے 15 دنوں کے لئے بوئنگ 777 مانگ رکھا ہے جس سے پی آئی اے کو کروڑوں کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2008 میں ہر پاکستانی پر 36 ہزار روپے قرضہ تھا جو کہ اب 1 لاکھ سے زائد ہوچکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم عوام پر عائد ٹیکسز میں کمی کریں گے اور امیروں پر ٹیکس عائد کریں گے اور اس ٹیکس کو عوام کی فلاح کے لئے خرچ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے الیکشن سیکریٹیریٹ میں چوہدری سرورہمارے پولنگ اسٹاف کوتربیت دے رہے ہیں کہ کس طرح مسلم لیگ ن کو دھاندلی سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو2013 کے انتخابات میں دھاندلی ثابت کرنے میں ڈھائی سال لگے تب آشکارہوا کہ ترپن ہزارووٹ جعلی تھے لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی بلکہ وہی تمام افراد دوبارہ الیکشن کا انعقاد کروارہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دھاندلی ثابت کرنے کے لئے 26 لاکھ روپے نادرا کو دئیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نے دیکھا کہ آج تک مسلم لیگ ن کو مینارِپاکستان پرجلسہ کرتے دیکھا، تحریک انصاف تین بارمینارِ پاکستان پر کامیاب جلسے کرچکی ہے یعنی عوام ہمارے ساتھ ہیں۔

عمران خان نے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ ن سے تحریک انصاف میں شمولیت کرنےوالوں نے ن لیگ کی دھاندلی کے بارے میں کئی انکشافات کئے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پردھاندلی کا پروگرام بنا رکھا ہے لہذا تحریک انصاف کی خواتین تیارہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ ووٹوں کے تھیلوں میں بھی گڑبڑکی جاتی ہے لہذا ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کریں گے پولنگ کے بعد فوج کی نگرانی میں تھیلے منتقل کئےجائیں۔

عمران خان نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ ووٹ لے کر جانے والی ہر گاڑی کے پیچھے کم سے کم پانچ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان نگرانی کریں۔

علیم خان کا خطاب


این اے 122 سے تحریک انصاف کے امیدوارعلیم خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 11 اکتوبرکو فیصلہ کرنا ہے کہ تختِ لاہوراور پنجاب کس کا ہے؟۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایازصادق 12 سال ایم این اے رہے لیکن عوام سے جب ووٹ مانگتے ہیں توعوام سوال کرتے ہیں کہ آپ پہلے کہاں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حلقے میں عوام گندہ پانی پینے پرمجبورہیں، بچے اسکولوں میں چھتوں سے محروم ہیں اوراسپتالوں میں تین مریض ایک بسترپر ہیں لیکن حکومت نے 70 ارب روپے خرچ کرکے جنگلہ بس چلائی ہے اور اب 160 ارب روپے خرچ کرکے اورنج ٹرین بنانے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے میرے شروع کئے ہوئے منصوبے روکے ہوئے ہیں حکومت بے شک میری تختی گرا کراپنے نام کی تختی لگادے لیکن ان تیار منصوبوں کا افتتاح کرے۔

علیم خان نے یہ بھی کہا کہ نہ حکومت چوہدری ہے اور نہ عوام ’’کمی‘‘ ہیں اب عوام اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لیں گے۔

جہانگیر ترین کا خطاب


تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیرترین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اورعلیم خان شیر کا شکارکرنے نکلے ہیں لیکن وہ میدان چھوڑکربھاگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہورکے عوام مہنگائی سے نجات اوراپنے مسائل کے حل کے لئے 11 اکتوبر کو باہر نکلیں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کی محبت دیکھ کرحکمران جماعت میدان چھوڑ کر فرار ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت میں آئی تو ایک ایسی طاقتورنیب ظہور میں آئے گی جو ملک کا لوٹا ہواایک ایک پیسہ واپس لےکرآئے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو پکڑنا ہوگا نئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ہوں گے۔

شیخ رشید کا خطاب


جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ لاہور پاکستان کا لینن گراڈ ہے جب تک لاہورتبدیلی نہیں لائے گا تو کوئی شہرتبدیل نہیں لاسکے گا۔

شیخ رشید نے یہ بھی کہاکہ ایازصادق نے دوسال تک قومی اسمبلی میں میرا مائیک بند کئے رکھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری ٹی وی کا ڈرائیور بھی نواز شریف سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے جبکہ نواز شریف

کے خاندان والے اپنی دولت باہر لے جا کر محلات قائم کررہے ہیں۔

 عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ نو تاریخ کے بعد ملکی سیاست میں زلزلہ آجائے، ادارے ملک کوبچائیں۔

چوہدری سرور کا خطاب


چوہدری سرور نے ڈونگی گراوئنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں دھاندلی سے بازرہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے عوام 11 اکتوبر کو فیصلہ دیں گے کہ پاکستان کا آئندہ وزیراعظم کون ہوگا؟۔

ریحام خان کا خطاب


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ بھی اس جلسے کے لئے متحرک ہوگئیں اورانہوں نے خواتین کی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان گزشتہ چالیس سال سے ملک کی بقا کے لئے محنت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ اکتوبر کا دن پی ٹی آئی کا فتح کا دن ہوگا، خواتین کا جوش وجذبہ دیکھ کرمجھے یقین ہیں کہ این اے 122 کی نشست ہم ہرصورت جیتیں گے۔

ریحام خان نے یہ بھی کہا کہ علیم خان جیسا نظریاتی کارکن عمران خان کے پاس اور کوئی نہیں ہےان کے پیسے سے متعلق بات کرنے والے اُن سے حسد کرتے ہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے لیڈران کو درپیش خطرات کے پیش ِنظرسیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔

عمران خان اس جلسے کے لئے لاہور تشریف لاچکے ہیں اورجلسے سے قبل جسٹس جاوید اقبال کی تعزیت کے لئے ان کے گھر روانہ ہوئے ہیں۔

این اے 122 کی قومی اسمبلی کی نشست سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی اور اس پر تحریک انصاف کی جانب سے علیم خان ایاز صادق کے مدمقابل ہیں۔

این اے 122 کی نشست پر ضمنی انتخابات کا انعقاد 11 اکتوبر 2015 کو ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں