The news is by your side.

Advertisement

پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم، پی ٹی آئی پاناما کیس پر دو تحریکیں پیش کرے گی

پاکستان تحریک انصاف نے کل پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کردیا، عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے مایوس کیا، وہ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں  دو تحریکیں پیش کرنے جارہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کررہے ہیں اور تحریک انصاف کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کے خلاف دو تحاریک پیش کرے گی۔


PTI decides to rejoin parliament by arynews

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں بھی جھوٹ بولے، جھوٹ بولنے والے وزیراعظم پر اعتبار کیوں کیا جائے؟وزیراعظم پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کچھ کہتے ہیں اور سپریم کورٹ میں کچھ،کیا پارلیمنٹ نواز شریف سے جواب طلب کرے گی؟ کہ وہ اب سپریم کورٹ میں جھوٹ کہہ رہے ہیں یا یہاں جو کہا وہ سچ تھا؟ کل پارلیمنٹ کا بھی امتحان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے پاس نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے غلط کام پر اپوزیشن کا کام جواب طلب کرنا ہے، اگر ہم جواب طلب کرتے ہیں تو ہمیں کیا کچھ کہا جاتا ہے، ہمیں جواب ہی نہیں دیا جاتا،کل ہم دیکھیں گے کہ ہماری تحریک التوا پر ن لیگ کیا رد عمل دیتی ہے۔

ان کا موقف تھا کہ پارلیمنٹ میں جانے کا مقصد ہی قانون کی بالادستی ہے ، اگر قانون پر عمل درآمد ہی نہیں ہوگا پارلیمنٹ کا کیا فائدہ؟

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی پاکستان کو تنہا کرنا اور صوبوں کو علیحدہ کرنا چاہتا ہے، مجھے سب سے زیادہ تکلیف بھارت کی جانب سے ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو بے عزت کرنے پر ہوئی، ان کی بے عزتی سے پورے پاکستان کی بے عزتی ہوئی، حکومت کو سرتاج عزیز کو وہاں بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ قطری شہزادوں کو تلور کے شکار پر یہاں بلالیا، یہ غیر قانونی ہے، اس کے شکار کی اجازت نہیں ہے، قانون توڑ کر انہیں شکار کی اجازت دی گئی،کیا یہ لوگ کہیں باہر جاکر قانون توڑ سکتے ہیں؟اب حکومت عدالت میں یہ کہتی ہے کہ یہ ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، کیا پرندے مروانا بھی خارجہ پالیسی ہے؟

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں چار نکات کو لے کر اس وقت دو گروپس بن چکے ہیں، ایک گروپ شیری رحمان، کائرہ، خورشید شاہ و ہمنوا کا ہے جب کہ دوسرا گروپ یوسف رضا گیلانی اینڈکو کا ہے جو چاہتا ہے کہ ان چار مطالبات کو لے کر حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جائیں، ڈاکٹر عاصم کی رہائی سمیت دیگر معاملات پر سودے بازی کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں