اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف نے آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا اور رہنماؤں کو تحصیل سطح پراحتجاج کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین کی صحت کے معاملے پر آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا۔
ارکانِ اسمبلی نمازِ جمعہ کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیں گے۔
ذرائع ک نے بتایا کہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان احتجاج میں شریک ہوں گے، جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں رہنماؤں کو تحصیل سطح پر احتجاج منظم کرنے کا کہا گیا ہے، جب کہ ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداران کو بھی متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
گذشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے بھی شرکت کی۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر احتجاج کیا جائے گا اور اسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ نمازِ جمعہ کے بعد پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیا جائے گا، جبکہ جنید اکبر نے خیبرپختونخوا کے تمام ارکان اسمبلی کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بھی اعلان کیا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آج سے دھرنا شروع ہوگا، فی الحال کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا جا رہا، تمام مطالبات دھرنے کے دوران عوام کے سامنے رکھے جائیں گے اور منظوری تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپوزیشن کی بات نہ سنی تو تین روز بعد صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے حوالے سے صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، اور اس دوران اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ دھرنے میں سب کے سامنے مطالبات رکھیں گے اور مطالبات کی منظوری تک ہمارادھرناختم نہیں ہو گا، صدر نے تین دن بعد پارلیمنٹ سےخطاب کرناہے۔ ہماری بات نہ سنی گئی تو صدر کا جوائنٹ سیشن سے خطاب کیسے ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


