پاناما کیس کا فیصلہ ، تحریک انصاف کا آج یوم نجات اور یوم تشکرمنانے کا اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس کا فیصلہ ، تحریک انصاف کا آج یوم نجات اور یوم تشکرمنانے کا اعلان

اسلام آباد : پاناما کیس کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے آج یومِ نجات اور یومِ تشکر منانے کا اعلان کیا ہے ۔

تحریک انصاف نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد جمعتہ المبارک کو “یوم نجات” اور “یوم تشکر” کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، عمران خان نے ملک بھر میں کارکنان کو نوافل کی ادائیگی اور سپریم کورٹ کےبینچ کےاراکین کی صحت اورعمردرازی کیلئےدعا کی ہدایت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق کا کہنا ہے کہ کارکنان کرپٹ وزیر اعظم اور ظالم نظام سے نجات کے آغاز پر خدا کے حضورسجدہ ریز ہوں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہار تشکر کیلئے صدقہ،خیرات کیا جائے، یوم تشکر پر کارکنان غریب افراد میں کھانا تقسیم کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ یوم تشکر” اور “یوم نجات” کے موقع پر پاکستان کے مستقبل کیلئے دعائیں مانگی جائیں گی، قوم تحریک انصاف کےساتھ مل کرارض پاک کیلئےدعائیں کرے۔


مزید پڑھیں : عمران خان نے نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا


یاد رہے گذشتہ روز  پاناما کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 60 دن میں کلیئر ہوکر آپ واپس آسکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کیا جواز رہ گیا، یہ ایسے ہی ہے جیسے عزیربلوچ پر جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے، ملک میں لوڈشیڈنگ کی انتہا ہے، معیشت تباہ ہوچکی ہے، آپ ملک پرتوجہ دیں گے یا پھر خود کو بچائیں گے۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15روز بعد رپورٹ پیش کرے، وزیراعظم ،حسن اور حسین جےآئی ٹی میں پیش ہونگے اور جے آئی ٹی 60روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، نیب کا نمائندہ، حکم سیکیورٹی ایکس چینج، ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

سپریم کورٹ نے قطری خط کو مسترد کردیا اور حکم دیا کہ لندن فلیٹس کس کی ملکیت ، منی ٹریل کا پتہ چلایا جائے جبکہ دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا نوٹ لکھا تھا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں