The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کی نئی کابینہ کی تشکیل پر اختلافات سامنے آگئے

کوئٹہ : بلوچستان کی نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد اختلافات سامنے آگئے، مخلوط حکومت میں شامل اتحادی پی ٹی آئی اور خواتین ایم پی ایز کابینہ کی تشکیل پر ناخوش ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کی 14 رکنی کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد صوبائی حکومت میں اختلافات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی بڑی اتحادی پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سرداریارمحمد رند ،ڈپٹی اسپیکر سرداربابر موسیٰ خیل سمیت بیشتر اراکین نے حلف برداری کی تقریب میں ناراضگی کے باعث شرکت نہیں کی۔

کابینہ میں پی ٹی آئی کے دو وزرا کو شامل کیا گیا تاہم پارلیمانی گروپ سے مشاورت نہیں کی گئی جس پر سردار یار محمد رند سمیت پی ٹی آئی کے پانچ ایم پی ایز نالاں ہیں،

ذرائع کے مطابق دوسری جانب بی اے پی کی دو اہم خواتین اراکین اسمبلی بشری رند اور ماہ جبیں شیران بھی کابینہ کی تشکیل پر ناخوش ہیں، دونوں خواتین اراکین نے ٹویٹر پر صوبائی کابینہ کو میل ڈومینیٹڈ قرار دیتے ہوئے 19 رکنی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز گورنر ہاوس میں منعقدہ تقریب میں گورنربلوچستان سید ظہور احمد آغا نے نئی صوبائی کابینہ سے حلف لیا تھا، 14 وزرا سمیت 5 مشیروں نے حلف اٹھایا۔

حلف اٹھانے والوں میں بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار عبدلرحمان کھیتران،نور محمد دمڑ،ظہور بلیدی،سردار صالع بھوتانی،نوابزادہ طارق مگسی،اکبر اسکانی،محمد خان لہڑی،سکندر عمرانی شامل تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے،نصیب اللہ مری،مبین خلجی شامل بی این پی عوامی کے اسد بلوچ اور ہزرا ڈیموکریٹک پارٹی عبدالخالق ہزارہ بھی شامل عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک خان اچکزئی اور پی این پی کے سید احسان شاہ حلف اٹھانے والوں میں شامل تھے۔

تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ کیساتھ عوام کی خدمت کریں گے، محکموں کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہے آج یا کل تک وزرا کو وزراتوں کا قلمدان تفویض کردیئے جائیں گے، مجھے امید ہے بلوچستان کے لئے اچھا پرفارم کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں