جمعرات, جولائی 23, 2026
اشتہار

آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے، بیرسٹر علی ظفر

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (9 نومبر 2025): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ 1973کا آئین کسی ایک پارٹی یا فرد کا نہیں، بلکہ پوری قوم کا ہے۔ 27 ویں ترمیم لانے سے پورا آئین متاثر اور آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، صوبے خودمختار ہیں۔ پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے بنتی ہے، مگر آئین کی پابند ہے۔ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے اورعدلیہ ان کے نفاذ کی ضامن ہے جب کہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز نے جاتے جاتے 63 اے سے متعلق فیصلہ ریورس کر کے 26 ویں ترمیم کی راہ ہموار کی اور پی ڈی ایم حکومت نے اکثریت کے بغیر یہ ترمیم منظور کرائی۔ بعض ارکان سے زبردستی ووٹ دلانے کے الزامات سامنے آئے۔ جے یو آئی کے ساتھ دھوکا اور آئینی بینچ بنا کر معاہدے کی نوعیت بدل دی گئی۔

پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں