اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ بانی اور بشریٰ بی بی کو جبراً قید میں رکھ کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو مزاحمت کی جائے گی۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کیس کے فیصلے اور اس کے اثرات پر غور کیا گیا۔
کور کمیٹی نے عدت مقدمے میں بریت کو حق اور سچ کی فتح قرار دیا اور ساتھ ہی توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ اور سائفر مقدمے سے بریت کے بعد بانی اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں بانی اور بشریٰ بی بی کو رہائی کے قانونی حق سے محروم کرنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی۔
کور کمیٹی نے کہا کہ بانی اور ان کی اہلیہ کو جبراً قید میں رکھ کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تو مزاحمت کریں گے، ملک گیر مزاحمت کے سوا کسی اور آپشن کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی نے اشتعال انگیزی کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، اب عدالت کی ذمہ داری ہے کہ دستور بحال کروائیں، توشہ خانہ کو چوتھی مرتبہ بالکل غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ بانی اور ان کی اہلیہ کو رہا نہ کیا گیا تو عوام کی عدالت سے رجوع کریں گے۔
نیب نے گرفتاری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا۔ نیب کی ٹیم سابق خاتون اوّل کی باقاعدہ گرفتاری ڈال کر اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئی۔
خیال رہے کہ نیب نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے انھیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


