The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف کے مطالبات جائز مگر طریقہ غلط ہے، سعید غنی

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنماء سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ سیاست میں تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ پی ٹی آئی واحد کا کردار رہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا بہترین کردار ادا کررہی ہے مگر عمران خان اپوزیشن جماعتوں کو تحریک انصاف جیسا سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اتفاق رائے کو عمران خان نے کمزور کیا، اپوزیشن کی جماعتیں ساتھ کھڑی ہوں تو حکومت پر زیادہ دباؤ ڈالا جاسکتا ہے ، چیئرمین تحریک انصاف کی ضد کے باعث 2013 کے دھاندلی شدہ الیکشن بھی درست قرار دے دیے گئے۔

پڑھیں:  ادارے انصاف نہ دیں تو احتجاج کرنا ہمارا حق ہے،عمران خان

پی پی رہنماء کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا تمام جماعتوں کا آئینی حق ہے مگر شہر بند کرنے کے معاملے پر تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دے سکتے کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوریت کے ذریعے ہی احتساب چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میاں محمد نوازشریف نے استعفیٰ نہیں دیا تو تحریک انصاف کے پاس اگلا لائحہ عمل کیا ہوا؟ جبکہ پی ٹی آئی کشمیر کے حوالے سے بلائے گئے مشترکہ  اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرنے یا نہ کرنے سے متعلق اتفاق نہیں کرسکی تھی۔

مزید پڑھیں: پانامہ لیکس الزامات نہیں ثبوت ہیں،عمران خان

عمران خان پر تبصرہ کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ ’’چیئرمین تحریک انصاف دیگر جماعتوں کو بھی اپنی جماعت کی طرح چلانے کے خواہش مند ہیں، وہ خود کش حملہ آور کی طرح حکومت پر حملہ کرنا چاہ رہے ہیں،تحریک انصاف  کے مطالبات جائز ہیں مگر اُن کے طریقہ کار سے تمام جماعتوں کو تحفظات ہیں۔

انہوں نے حکومت کو عمران خان کی گرفتاری نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر پی ٹی آئی کے چیئرمین کو گرفتار کیا گیا تو حکمرانوں کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوجائیں گی، پیپلزپارٹی خود سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے حق میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھرنے والے خبردار رہیں، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، رانا ثناء اللہ

 پیپلزپارٹی کے رہنماء نے کہا کہ دونوں جماعتیں ماضی میں دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات اور اُن کی مدد میں پیش پیش نظر آئی ہیں، عمران خان میں تاحال سیاسی پختگی کی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کو مشورہ دیا کہ  ایسا تاثر دینے سے گریز کیا جائے جس سے جمہوریت کو خطرہ  ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں