The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی:‌ بھارتی جارحیت کے خلاف تحریک انصاف کی قرارداد

ہمیں بھارت کے ٹماٹر نہیں چاہییں، پاکستان میں اچھی قسم موجود ہے، دعا بھٹو

کراچی: تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرار داد جمع کرادی، پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ ہمیں بھارت کے ٹماٹر نہیں چاہییں کیونکہ ہمارے پاس ٹماٹروں کی اچھی قسم موجود ہے۔

تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں قرار جمع کرائی جس کے بعد خاتون رکن اسمبلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج اہم مسئلے پر سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی، بھارت کی طرف سے ہونے جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

ہاتھوں میں ٹماٹر تھامے خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’بھارت نے پاکستان کے لئے جو ٹماٹر بند کیئے ہیں وہ ہمیں نہیں چاہیے کیونکہ وہاں سے آنے والے ٹماٹر بھارتیوں کے چہروں کی طرح خراب ہیں‘۔ دعا بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاکستان میں بہت اچھی قسم کے بڑے ٹماٹر ہیں‘۔

خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت بھارت میں مسلمان اور غریب دشمن جیسی گندی سیاست پر اتر آئی، بھارتی سرکار نے نفرت اور  انتہاء پسندی کو فروغ دیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے واضح پیش کش کی کہ اگر ثبوت ہیں تو پیش کریں۔

مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا کی بدحواسی عروج پر، پاکستان کو ٹماٹر فروخت نہ کرنے کے فیصلے کو بریکنگ نیوز بنا دیا

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کا سب سے بڑا ہتھیار ٹماٹر نکلا اس لیے وہ ایکسپورٹ نہ کر کے پیغام دینا چاہتا ہے اور الیکشن میں فتح حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد نہ صرف مودی حکومت بلکہ بھارتی میڈیا کی بدحواسی عروج پر ہے، ایک روز قبل میڈیا نے  ٹماٹر پاکستان کو فروخت نہ کرنے کے فیصلے کو بریکنگ نیوز بنا دیا تھا۔

مودی سرکار پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے، وہیں عوام بھی حکومتی رنگ میں رنگ گئے۔ بھارتی کسانوں نے اعلان کر دیا کہ ہم پاکستان کو ٹماٹر برآمد نہیں کریں گے۔بھارتی میڈیا نے اس خبر خوب اچھالا اور بھارت کی پاکستان کےخلاف بڑی کارروائی قرار دے کر شور مچانا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے

بھارتی میڈیا نے کہا کہ پاکستان ہمارے ٹماٹر کھا کر ہم پر حملہ کرتا ہے، اب پاکستان کو ٹماٹر دینےسے انکار کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں