اسلام آباد : 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پی ٹی آئی سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا گیا، بیرسٹر سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ ہدایت کے باوجود ایک سینیٹر نے کھلے عام ووٹ دیا۔
تفصیلات کے مطابق بیرسٹر سینیٹر علی ظفر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے والے رکن کو فارغ کر دیا گیا ہے، سینیٹرز کو واضح انسٹرکشنز دی گئی تھیں کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دیں۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہدایت کے باوجود ایک سینیٹر نے کھلے عام ووٹ دیا، جس پر پارٹی نے اس کے خلاف نوٹس جاری کر دیا اور اسے پارٹی سے بھی فارغ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ نااہلی کا خط چیئرمین سینیٹ کو بھی بھیجا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم 63 اے کی روح کے خلاف ہے اور اس ترمیم میں ایک ووٹ دھاندلی یا دباؤ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
مزید پڑھیں : پی ٹی آئی سینیٹر نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کیوں دیا؟ وجہ سامنے آگئی
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترمیم کنسینسس پر مبنی نہیں تھی اور سینیٹ میں حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں تھی، جبکہ قومی اسمبلی میں صورتحال مختلف تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئینی عہدہ لینے والا اگر جرم کرے تو سزا سے نہیں بچ سکتا، اور کوئی صدر یا گورنر جرم کرے تو تاحیات استثنا نہیں مل سکتا، آئین، قانون اور قرآن و سنت کسی کو جرم کی آزادی نہیں دیتے۔


