site
stats
پاکستان

پی ٹی آئی کا خواجہ آصف کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیر دفاع کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف نےاقامہ کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائیں ،وہ کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کی نااہلی کے لئے پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے خواجہ آصف کی نااہلی کے لئے درخواست دائرکی ، درخواست میں خواجہ آصف، سیکرٹری الیکشن کمیشن اورسیکرٹری قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ خواجہ آصف نے اقامہ الیکشن کمیشن سے چھپایا اور سرکاری عہدے پرغیر ملکی کمپنی کی ملازمت کی، خواجہ آصف کروڑوں روپےکی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ غیرملکی کمپنی سے معاہدے کی تفصیلات منظرعام پرآ چکی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی کمپنی سے معاہدے کی تفصیلات منظرعام پرآ چکی ہیں، خواجہ آصف کےاکاؤنٹ میں کروڑوں روپےغیر ملکی کمپنی سےمنتقل ہوئے، الیکشن کمیشن میں بزنس مین مگرحقیقت میں غیر ملکی کمپنی کے ملازم نکلے اور غیر ملکی کمپنی سے لی گئی تنخواہ انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئی۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے وزیردفاع ہوتے ہوئے غیرملکی کمپنی کی ملازمت مفادات کا تصادم تھا، خود کو بزنس مین ظاہرکرنے والے حقیقت میں غیرملکی کمپنی کےملازم نکلے۔

عثمان ڈار نے مزید کہا کہ غیرملکی کمپنی سےتنخواہ انکم ٹیکس گوشواروں میں شامل نہیں، خواجہ آصف کیخلاف کیس مضبوط ہے ، ضرور نااہل ہوں گے ۔

واضح رہے سیالکوٹ سے خواجہ آصف کے حلقے سے پی ٹی آئی کے امید وار عثمان ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خواجہ آصف کے اقامے کی کاپی جاری کی تھی، جس کے مطابق خواجہ آصف بھی دبئی کی کمپنی میں ملازم ہیں۔


مزید پڑھیں : خواجہ آصف وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ دبئی کمپنی کے ملازم نکلے


پی آٹی ٹی کے رہنما عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف سے متعلق حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں، آرٹیکل63،62کےتحت خواجہ آصف کو بھی گھر بھیجیں گے، اقامہ ان کمپنیوں سے لیا گیا، جنہیں پروجیکٹ کی مد میں فائدہ دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ خواجہ آصف سے متعلق جو دستاویزات ملی ہیں وہ حیران کن ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top