The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف نے پہلے سو روزہ ایجنڈے کا اعلان کردیا

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کریں گے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے، بلوچستان میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو قومی دھارے میں لائیں گے

اسلام آباد: تحریک انصاف نے اپنی ممکنہ حکومت کے ابتدائی سو روز سے متعلق ترجیحات کا اعلان کردیا، معیشت کی بحالی، تعلیم، صحت، زرعی ایمرجنسی کپتان کے پلان کا حصہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت کی ترجیحات سے متعلق تقریب میں شاہ محمود قریشی نے پارٹی کے تفصیلی ایجنڈے کی نقاب کشائی کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو وفاق کی سوچ رکھتی ہے، ہم اصلاحات لائیں گے، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کریں گے، بلوچستان میں ناراض لوگوں کو مناکر قومی دھارے میں لائیں گے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات، حقوق نسواں، بلدیاتی نظام کی بہتری، سمندر پار پاکستانیوں کے لیےاقدامات بھی پلان میں شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کراچی کو ترقی دیں گے، دس سالوں میں کراچی کی حالت ابترہوگئی ہے، کراچی کے اداروں کو سیاست سے پاک کریں گے، امن عامہ اورسیکورٹی معاملات کو بہتر کرکے بھتے اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی، کراچی کے لیے مکمل ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کریں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اربن پراپرٹی ٹیکس کے نظام کو بہترکر کے قومی خزانہ بڑھائیں گے اور ٹیکس سے حاصل آمدن کو کراچی کی ترقی کے لیے استعمال کریں گے۔

نواز شریف ملک کے مفادات کو داؤ پر لگا رہے ہیں: شاہ محمود قریشی


بلوچستان کے متعلق انھوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کامستقبل ہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو قومی دھارے میں لائیں گے، بھارت، این ڈی ایس کے بھٹکائے افراد کو پہاڑوں سے نیچے لائیں گے۔

فاٹا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ایف سی آر قانون فی الفور ختم کرے گی، فاٹا کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، ہم عدالت کا دائرہ کار ترمیم کے ذریعے فاٹا تک پہلے ہی بڑھا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کو بہتربنانے کے لیے اداروں کو غیر سیاسی بنانا لازمی ہے، یہ کام ہم کریں گے، تھر، چولستان، بلوچستان محرومی کا شکار ہیں، ان کے لیے معاشی پیکیج دیں گے، تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں