The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف گاڈ فادر پلس ہیں، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے، ہم جو کچھ کہہ رہے تھے وہ ثابت ہوگیا، نواز شریف گاڈ فادر نہیں بلکہ گاڈ فادر پلس ہیں،جے آئی ٹی کے فیصلے سے اختلاف ہے، جے آئی ٹی میں کیا ہوگا؟ معاملہ عوام کے سامنے لایا جائے، نواز شریف پہلے استعفیٰ دیں پھر تحقیقات ہوں گی۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں بات کرتے ہوئے کہی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے، ہم جو کچھ کہہ رہے تھے وہ ثابت ہوگیا، کسی بھی ملک کا سربراہ ایسے الزامات کے بعد عہدے پرنہیں رہتا۔

عمران خان نے کہا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلیٹس کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ باہر کیسے گیا؟ 13برس تک فلیٹس کا کرایہ اور التوفیق کے پیسے بھی قطری شہزادے نے دیئے؟

جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے سے اختلاف ہے

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قطری خط ختم ہوا تو ان کا کیس بھی ختم ہوگیا، ایسے فیصلے پر کسی بھی ملک کے سربراہ کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے،تین ججز نے کہا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے اس سے مجھے اختلاف ہے۔

نواز شریف استعفیٰ دیں پھر تحقیقات ہوں

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے بارے میں عدالت نے جو کہا سب کے سامنے ہے، نیب،ایف آئی اے،ایس ای سی پی حکمرانوں کے ماتحت ہیں، یہ تمام ادارے شفاف تحقیقات کیسے کرسکتے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے نواز شریف استعفیٰ دیں پھر تحقیقات ہوں۔

نواز شریف گاڈ فادر پلس ہیں

فیصلے میں گاڈ فادر کے عدالتی ریمارکس پر عمران خان نے کہا کہ گاڈ فادر مافیا کا ہیڈ تھا،اس نے کرپشن سے سلطنت بنائی ہوئی تھی، گاڈ فادر سے کوئی رقم کا پوچھتا تو وہ نہیں بتا سکتا تھا،میں توکہتا ہوں کہ نواز شریف گاڈ فادر پلس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  نواز شریف نے بلیک پیسہ ملک سے باہر رکھا ہوا ہے، نواز شریف نے خود کو بچانے کے لیے تمام پیسہ والد اوربچوں کے نام  پر رکھا پیسوں کے معاملے پر پانچوں ججز نے ان کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔

نواز شریف عزیر بلوچ کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے جائیں گے

جے آئی ٹی پر انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کی طرح ملک کا وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے جائے گا، ڈیوڈ کیمرون کو کسی نے استعفے کے لیے نہیں کہا تھا، پاکستان کی پوری اپوزیشن نواز شریف کو استعفے کے لیے کہہ رہی ہے کیوں کہ فیصلے کے بعد نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔

میاں صاحب ملک کے دشمن ہیں

کرکٹرمیچ فکسنگ کرے گا تو نواز شریف کس منہ سے روکیں گے،پیسہ چوری ہورہا ہے،اس لیےآئی ایم ایف کے قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، میاں صاحب ملک کے دشمن ہیں، ملک قرضوں میں ڈوب رہا ہے، کیسے روکیں گے

جے آئی ٹی میں کیا ہورہا ہے معاملہ پبلک ہونا چاہیے

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں کیا ہورہا ہے معاملہ پبلک ہونا چاہیے،ڈان لیکس کی سادہ سی جے آئی ٹی تھی جس کا آج تک نتیجہ نہیں آیا، جن اداروں کو مفلوج کہا گیا ان کو ہی جے آئی ٹی دے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے، ملک میں سالانہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوری ہے ، میاں نواز شریف نے بھی منی لانڈرنگ کرکے ملک سے پیسہ باہر بھیج دیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکمران قوم کا پیسہ نکال کر ووٹ خرید رہے ہیں چھانگہ مانگہ میں بھیڑ بکریوں کی طرح صحافیوں کو خریدا گیا۔ جو پیسہ ملک کی بہتری پر خرچ ہونا چاہئے چند لٹیرے وہ رقم کھا رہے ہیں۔

جمعے کو اسلام آباد میں جلسہ کروں گا

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ساری اپوزیشن جماعتیں اکھٹی ہیں، البتہ عوامی احتجاجی تحریک الگ الگ چلائیں گے، جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے جارہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ہی نہیں بلکہ عوام سے کہہ رہا ہوں کہ کرپشن کے خلاف گھروں سے نکلیں کیونکہ کرپشن اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کا خاتمہ کیے بغیر روشن مستقبل کا خواب ممکن نہیں۔

عدلیہ کا پیپلز پارٹی سے سلوک اچھا نہیں

عمران خان کا کہنا تھا کہ جس طرح میر جعفر اور میر صادق نے اپنی ذات کے لیے قوم کا سودا کیا تھا یہ حکمران پاکستان کے میر جعفر اور میر صادق ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ عدلیہ کا پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ رویہ اچھا نہیں رہا۔

سو بار مر کے زندہ ہوجاؤں تب بھی زرداری جیسا سیاست دان بننا پسند نہیں کروں گا

عمران خان نے کہا کہ اگر میں سو مرتبہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجاؤں تب بھی آصف زرداری جیسا سیاست دان بننا پسند نہیں کروں گا، پی پی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد ممکن نہیں البتہ اسمبلی کے اندر ساری سیاسی جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوسکتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں