کراچی (10 جنوری 2026): سندھ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے باغ جناح کے بجائے سڑک پر جلسہ کرنے پر ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی کو سڑک پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، کسی بھی سڑک پر جلسہ ہوگا تو حکومت سخت ایکشن لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو کراچی میں جلسے کی مشروط اجازت مل گئی
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کو جہاں جلسے کی اجازت دی ہے وہیں کرے، ہم ابھی تک پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔
صوبائی حکومت نے پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسہ کرنے کی باضابطہ اجازت آج شام میں دی ہے لیکن سیاسی جماعت کا مؤقف ہے کہ تاخیر سے این او سی ملنے کی وجہ سے جلسے کیلیے انتظامات نہیں کر سکتے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ہم باغ جناح میں جلسہ نہیں کریں گے بلکہ مزار قائد کے گیٹ کے سامنے جلسہ ہوگا۔
حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ ہم نے شام 5 بجے تک اجازت نامے کا انتظار کیا، الہٰ دین کا چراغ نہیں کہ رات میں جلسے کے انتظامات کر سکیں۔
سندھ حکومت این او سی کے ساتھ الہٰ دین کا چراغ بھی دے
پی ٹی آئی رہنما راجہ اظہر نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر این او سی اب تک ہمیں نہیں ملا تاہم اس کی خبریں ہمیں میڈیا سے ملی ہیں۔
راجہ اظہر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت این او سی کے ساتھ الہٰ دین کا چراغ بھی دے، اگر آج صبح تک اجازت نامہ دے دیتے تو جلسے کے انتظامات مکمل کر لیتے، مزار قائد کے پبلک گیٹ پر پی ٹی آئی کا پُرامن جلسہ ہوگا۔


