The news is by your side.

Advertisement

علیم خان نو روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور: احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنی کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علیم خان کا 15  فروری تک جسمانی ریمانڈ منطور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثوں اورآف شور کمپنی  رکھنےکے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو آج لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، نیب کی جانب سے پندرہ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی ، تاہم عدالت نے نویں دن علیم خان کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس موقع پرعلیم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کوتمام دستاویزات جمع کرادی ہیں ،ریمانڈکاکیس نہیں بنتا۔ انہوں نے یہ بھی کہ علیم خان کے تمام اثاثے قانونی ہیں ، جن کی دستاویزات نیب کو فراہم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب نے آف شور کمپنیوں سے متعلق کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔ علیم خان کاروبار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ پبلک آفس ہولڈر ہونا جرم نہیں ہے۔

وکیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ علیم خان نے نہ تو کوئی کرپشن کی ہے اور نہ ہی عہدے کا غلط استعمال کیا۔ 12 بار سوالات کے جوابات دستاویزات کے ساتھ نیب کو جمع کراچکے ہیں۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں سماعت کےدوران نیب کی جانب سے کہا گیا کہ علیم خان کاسنہ 2002 میں ایک کروڑ90لاکھ کاپرائزبانڈنکلا، 109ملین باہر سےان کےوالدکوآمدن آئی مگربھیجنےوالا کوئی نہیں۔ اس پر احتساب عدالت نے کہا کہ اگروالد فوت ہوچکے ہیں تو ان کا نام نہیں لینا چاہیے۔

 نیب کے مطابق اےاینڈ اےسے علیم خان کی والدہ کو سنہ 2012 میں 198ملین آمدن کی مد میں بھیجے گئے، باہرسےآنےوالی آمدن کوتسلیم نہیں کرتےالبتہ بانڈکوتسلیم کرتےہیں۔ نیب علیم خان نے2018میں871ملین اثاثےظاہرکیے جو کہ ان کی آمدن سےمطابقت نہیں رکھتے۔

عدالتنے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیم خان کو  9 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔

یاد رہے کہ  گزشتہ روز قومی احتساب بیورو کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے سینئر صوبائی وزیر بلدیات کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

علیم خان کو نیب حوالات منتقل کردیا گیا

پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کے بعد گزشتہ روز نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ قومی احتساب بیور نے علیم خان کو مبینہ طور پرآمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا۔

علیم خان سنہ 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے ، گزشتہ سات سال سے وہ اس جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ مشرف دور میں پنجاب حکومت میں آئی ٹی کے صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، ان کی وزارت کا دورانیہ سنہ 2003 سے 2007 تک محیط ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کا حصہ بننے سے قبل علیم خان نے دعوی ٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف دس اداروں میں تحقیقات ہوئی ہیں، 130 مختلف دستاویزات جمع کروا نے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ایک موقع پر علیم خان نے کہا تھا کہ یا تو انہیں گرفتار کیا جائے یا پھر ان کے خلاف مقدمات ختم کیےجائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں