سندھ حکومت اپنی گاڑیاں بچانے کے لیے اب قانون بنانے جا رہی ہے، فیصل واوڈا -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت اپنی گاڑیاں بچانے کے لیے اب قانون بنانے جا رہی ہے، فیصل واوڈا

کراچی: قومی اسمبلی کے رکن فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپنی گاڑیاں بچانے کے لیے اب قانون بنانے جا رہی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور بلدیہ ٹاؤن ہوا مگر کارروائی منطقی انجام تک نہ پہنچی۔

انھوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دینے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو ملک میں اونر شپ دی جا رہی ہے، حکومت مسائل کے حل کے لیے مثبت اقدامات کرے گی تو سب خود ہی آگے آئیں گے۔

فیصل واوڈا نے آئی ایم ایف سے قرضے کے حوالے سے کہا ’میری ذاتی رائے ہے کہ حکومت کو ضرورت پڑے تو آئی ایم ایف جا سکتی ہے تاہم اطلاع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے ذاتی خرچ کے لیے نہیں لیے جائیں گے بلکہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے، ماضی میں حکمران کسی ملک کے پاس گئے تو وہ کشکول لے کر گئے، پی ٹی آئی کی حکومت عالمی سطح پر لین دین کی سیاست نہیں کرے گی، امریکی وزیرِ خارجہ پاکستان آئے تو برابری کی سطح پر بات ہوئی۔


مزید پڑھیں:  سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس کل طلب، 9 ماہ کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی


پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی حکومت پانی کے سنگین مسئلے کو اجاگر کر رہی ہے، پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے قانون بنانے کی تجویز اچھی ہے، عوام کو پہلے بنیادی سہولتوں کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیے، پانی کے سنگین بحران کی وجہ سے مستقبل میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آخری ڈیم 1969 میں بنا تھا اس کے بعد کچھ نہیں ہوا، ملک کا حلیہ بگاڑنے والوں کا یہ کہنا کہ پاکستان ٹھیک ہو جائے یہ تبدیلی ہی ہے، حکومت اب جاگ گئی ہے اور ترجیحی بنیاد پر مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس کل طلب کیا گیا ہے جس کے ایجنڈے میں وزرا کی لگژری گاڑیوں کا استعمال بھی شامل ہے، سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے منع کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں