اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الٰہی آر وائی نیوز کی 26 مئی کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا قسم اٹھا کر کہتا ہوں ہمارے لیڈران بانی پی ٹی آئی سے مخلص نہیں
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے پارٹی قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کی 26 مئی کی خبر کی تصدیق کر دی۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فضل الٰہی کا کہنا تھا "میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ہمارے لیڈران بانی پی ٹی آئی سے مخلص نہیں ہیں۔ ہمارا 35 سے 40 ایم پی ایز کا گروپ ہے اور سب ایک پیج پر ہیں، ہمیں ایسی حکومت کی ضرورت نہیں جس میں ایک سیکرٹری بھی وزیر کی بات نہ مانتا ہو۔”
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی ضرورت ہے اس پر ہمارا گروپ یکجا ہے، پورے پاکستان کا کنونشن بلائیں،ارکان اسمبلی اورسینیٹرز سے حلف لیں۔
فضل الٰہی نے کہا کہ ہم 35 سے زائد ارکان ہیں، اگر 25 ایم پی ایز بھی الگ ہو جائیں تو کے پی کا بجٹ پاس نہیں ہوگا، بات اس حد تک نہ لے جائیں کہ بجٹ منظور نہ ہو اور حکومت چلی جائے۔
ناراض رکن اسمبلی نے کہا وزیراعلیٰ کے پی مرکز کا حکم ایسے مانتے ہیں جیسے ان کے ماں باپ ہیں، وزیراعلیٰ کو کہہ دیا پہلے کنونشن بلاکرحلف ہوگا، تاریخ دیں پھر بجٹ میں بیٹھیں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے بھی بجٹ منظور نہ کرنے کا کہا ہے۔
ہم نے واضح کر دیا ہے کہ 10 جون والا ‘ہومیو پیتھک کاسمیٹک احتجاج’ ہمیں منظور نہیں، پہلے کنونشن کی تاریخ دیں پھر بجٹ میں بیٹھیں گے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کے پی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 72 ارکان آئے تھے، اجلاس میں صرف 52 ایم پی ایز آئے جبکہ 40 ارکان غیر حاضر تھے۔
رہنما پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاق سے خفیہ ملاقاتیں پارٹی کے لیے زہرِ قاتل ہیں، کےپی حکومت کی کارکردگی کیاہوگی جس کو بیورو کریسی چاکلیٹ دے کرخوش کردیتی ہے۔


