خواتین کی کم ووٹنگ پرالیکشن کالعدم کرنا سمجھ سےبالا ہے‘ شوکت یوسفزئی -
The news is by your side.

Advertisement

خواتین کی کم ووٹنگ پرالیکشن کالعدم کرنا سمجھ سےبالا ہے‘ شوکت یوسفزئی

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی پی کے 23 شانگلہ سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے اے آروائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی کے 23 میں خواتین کی کم ووٹنگ پرالیکشن کالعدم کرنا سمجھ سے بالا ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پرعدالت سے رجوع کریں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ کسی امیدوارنے خواتین کے کم ووٹ ڈالنے کی شکایت نہیں کی، معاملے پربابراعوان قانونی معاونت فراہم کریں گے۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کے پی میں حکومت سازی کا مرحلہ بہترطریقے سے طے پا رہا ہے جبکہ حکومت سازی سےمتعلق پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نےگزشتہ ہفتے پی کے 23 شانگلہ سے تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسفزئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ پی کے 23 سے تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسفزئی 17 ہزار 399 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے تھے

پی کے 23 شانگلہ کے اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86698 ہے لیکن 25 جولائی کو پولنگ کے دن صرف 3505 خواتین نے ووٹ ڈالے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق کسی حلقے میں مرد اور خواتین ووٹرز کی کل تعداد میں سے اگر خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 10 فیصد سے کم ہوگی تو اس حلقے کے نتائج تسلیم نہیں کیے جائیں گے اور پولنگ کا عمل کالعدم قرار پائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں