The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف کے رہنما سبطین خان جیل سے رہا، تحریری فیصلہ جاری

لاہور: ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سبطین خان کے ضمانت کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت سے ان کی رہائی کے لیے روبکار جاری کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم نے 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جس کے پاس کوئی راستہ نہ ہو اسکے پاس آرٹیکل 199 کے ذریعے دادرسی کا راستہ بچتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 50،50لاکھ کےمچلکے جمع کرانے کے بعد سبطین خان کے روبکار جاری کیےگئے اورا نہیں رہاکردیاگیا۔ اس موقع پر کارکنوں نےبھرپوراستقبال کیا۔

رہائی کے بعد سبطین خان کا کہنا تھا کہ مجھے جس کیس میں جیل بھیجا گیا وہ میرے دور کاتھاہی نہیں،ڈیڈ ہارس کی مانند کیس تھا مگر اللہ پر توکل کیا اور انصاف ملا۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ  ہائی کورٹ اپنے اختیارات انصاف کی فراہمی کیلئے استعمال کرتا ہے، کسی قانون کی منشا کو متاثر کرنے کے لئے نہیں۔ ہائی کورٹ اختیار کا استعمال انصاف کی فراہمی اور نیب آرڈیننس کے ناجائز استعمال کو روکنے کیلئے کرتی ہے۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ  ملزم کو صرف سزا دینے کے لیے اسے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت کے پاس ملک تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے۔

 نیب کے ایسے ملزمان جن کے کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہو انہیں بنیادی حقوق کی فراہمی سے نہیں روکا جا سکتا۔ جب نیب کسی ملزم کو بنیادی حقوق کی فراہمی سے انکار کرے تو اسے ہائی کورٹ کی صورت میں روشنی کی کرن نظر آتی ہے۔

شہریوں کو بنیادی حقوق نہ دینے سے عدالتوں پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ ہم نے آئین کے تحت لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے۔ آئین کے تحت تمام شہریوں کی آزادی کا خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آیا جائے۔

یاد رہے 14 جون کو نیب لاہور نے صوبائی وزیرجنگلات سبطین خان کوگرفتارکیاتھا، ان پرغیرقانونی ٹھیکوں کاالزام ہے، بعد ازاں وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان نے گرفتاری کے بعد استعفٰی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوبھجوادیا تھا۔

سبطین خان وزیراعظم کے آبائی حلقے میانوالی پی پی 88 میانوالی چار سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور پھر وزیر جنگلات و جنگلی حیات بنے، سبطین خان دو ہزار سات میں بھی صوبائی وزیر معدنیات رہ چکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں