اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے واٹس ایپ گروپ میں سینیٹر مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کردیئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے واٹس ایپ گروپ میں سینیٹر مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
مشال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کا کام عدالتوں میں نہیں بلکہ عدالتوں کے باہر ہے، جبکہ عدالت کے اندر پریشر بار کونسل کے ممبران نے بنانا ہے۔
مشال یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ جن لوگوں کو پیسے لے کر ٹکٹ دیے گئے، سازشوں اور گروپ بندی کے ذریعے ایسے وکلا کو ممبر بنایا گیا جن کا آئی ایل ایف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اپنی فیسیں بڑھائیں کروڑوں کی کنسلٹنسی لی، سازشیں ہوئیں اور جھوٹ بولا گیا، بار کونسل کے ممبران کہاں ہیں؟
مشال یوسفزئی نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرکے اپنے حق میں ٹوئٹس بھی کیے گئے۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے” اور ان کی زندگی کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں جس پر کوئی انگلی اٹھا سکے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ "بتاؤ، جو بول سکتی ہو بولو، کون سی بات میں نے کی جو سازش تھی؟”
انہوں نے کہا کہ میری زندگی کولوگ پانچ سال کی عمر سے جانتے ہیں، میں نےپوری زندگی سچ اور ہمت کے ساتھ گزاری ہے۔


